سری نگر :۹۱، مئی : وادی کے اطراف واکناف میںاتوار کو رات دیر گئے اورپیرکو علی الصبح طاقتور آندھی بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا موجب بن گئی ۔کیلر شوپیان کی ایک جنگلاتی بستی میں ایک بھاری بھرکم درخت کے ایک خیمے پر گرنے سے ایک10سالہ بچی لقمہ اجل بن گئی جبکہ اسکاباپ اور2خواتین زخمی ہوگئےں ۔اس دوران وقفے وقفے سے آندھی نماہوائیں چلنے سے سری نگر ،بارہمولہ ،شوپیان ،بڈگام میں درجنوں مکانات،عبادت گاہوں ودیگرتعمیرات کی چھتیں اُڑ گئیں اور بڑی تعداد میں درخت اکھڑ جانے سے بجلی کاترسیلی نظام درہم ہوکررہ گیاجبکہ درخت گرنے سے سڑکیں بھی بند ہوگئیں ۔موسمیاتی مرکز سری نگر نے آندھی چلنے سے قبل کئی علاقوںمیں 40سے60کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کےساتھ درمیانے درجے سے شدید گرج چمک کےساتھ بارش کی وارننگ جاری کی تھی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق سب سے افسوسناک واقعہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے جنگلاتی علاقے گدر چوگن کیلر میں پیش آیا،جہاں ایک بڑا درخت ایک خیمے کے اوپر گرنے سے ایک10سالہ بکروال لڑکی صوبیہ ریاض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔جبکہ اسکے باپ ریاض احمد کے ساتھ ساتھ روبینہ اورصائمہ کوثرنامی دونامی 2خواتین زکمی ہوگئیں ۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ یہ واقعہ کیلر کے گدر چوان کے جنگلاتی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب تیز ہواو¿ں کی وجہ سے ایک الپائن کا درخت خیمے پر گر گیا۔جہاں راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک بکروال خاندان کے افراد موجودتھے۔ادھر بارہمولہ اور اسکے مضافاتی علاقوں بشمول نارواﺅعلاقے میں اتوارکو رات کے تقریباً10بجے برق رفتار ہوائیں چلنا شروع ہوئیں ۔لوگوںنے بتایاکہ آندھی نما ہواﺅںکا زوراسبات سے لگایاجاسکتا ہے کہ مکانات سے اُڑنے والی ٹین کی چادریں دور جاکر گر گئیں جبکہ تیز ہواﺅں سے چھتوں پر لگی ٹین کی چادریں اُکھڑ جانے کی آوازیں سنائی دیں۔اس دوران پورے قصبہ بارہمولہ اور ملحقہ علاقوںمیں تقریباً15منٹوں تک تیز ہوائیں چلنے سے خوفناک صورتحال پیداہوئی اور لوگ گھروںکے اندر سہم کررہ گئے۔قصبہ بارہمولہ میں ایک مسجد سمیت کئی مکانات اوردیگر تعمیرات کے چھت اُڑگئے جبکہ لکڑی سے کیاگیا تعمیراتی کام تہس نہس ہوکررہ گیا۔شمال سے جنوب تک، وادی کے تقریباً ہر ضلع کو طوفان سے نقصان پہنچا۔ آندھی نے درخت اکھاڑ دئیے، بجلی کے کھمبے اکھاڑ دئیے، درجنوں گھروں اور مساجد کی چھتیں اڑا دیں اور کئی قصبوں میں شیشے کے سائن بورڈز اور ہورڈنگز اکھڑ گئے۔سرینگر شہر میں، بڑی بڑی ہورڈنگز کھڑی گاڑیوں اور فٹ پاتھوں پر گرگئیں،اور صورہ علاقے میں ایک بڑادرخت گرنے کی اطلاع ملی۔چھتوں سے ٹین کی اڑتی ہوئی شیٹوں سے کئی علاقوں میں چوٹیں آئیں۔ کم از کم 5افراد کو سری نگر اور اننت ناگ کے اسپتالوں میں طوفان سے متعلق زخمیوں میں داخل کرایا گیا، حالانکہ کسی کی حالت نازک نہیں بتائی گئی۔بڈگام، پلوامہ، ٹنگمرگ اور بارہمولہ میں سیب کے باغات اور نرسریوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔شمال وجنوب کے کسانوںنے کہاکہ کھیتوںمیں لگائی گئی پنیری کیساتھ ساتھ نرسری میں لگائے گئے تمام نئے لگائے گئے سیب کے پودے اکھڑ گئے ہیں۔انہوںنے بتایاکہ یہ ایک تباہ کن نقصان ہے ۔آندھی نماہوائیںچلنے سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ طوفان نے درجنوں علاقوں میں خاص طور پر بارہمولہ،کپواڑہ، گاندربل، اننت ناگ اور بانڈی پورہ میں بجلی کی سپلائی میں خلل ڈال دیا۔ کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے مطابق، کئی ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کو نقصان پہنچا جبکہ درخت گرنے اور ملبے کے دباو¿ سے درجنوں ٹرانسمیشن لائنیں ٹوٹ گئیں۔آندھی کے باعث پمپنگ اسٹیشنز کو نقصان پہنچا اور فلٹریشن پلانٹس کے ٹین شیڈ اکھڑ گئے، کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ محکمہ جل شکتی (پی ایچ ای) کے ایک اہلکار نے کہاکہ پمپنگ اسٹیشنوں اور فلٹریشن پلانٹس کو نقصان پہنچنے سے کچھ علاقوں میں پانی کی سپلائی معطل کرنی پڑی کیونکہ اوور ہیڈ اسٹوریج ٹینک خراب ہو گئے تھے۔ضلع بڈگام کے کئی علاقوں بشمول مین قصبہ میں، سڑکوں پر کھڑی کئی گاڑیاں اڑتے ہوئے ملبے سے ٹکرا گئیں، جس سے ونڈ شیلڈز اور چھتوں کو نقصان پہنچا۔ کشمیر بھر کے ضلعی حکام نے نقصانات کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے اور مختلف تحصیلوں سے رپورٹیں مرتب کر رہے ہیں۔ڈویڑنل کمشنر کشمیر نے رات گئے ایک بیان میں کہا کہ ہنگامی رسپانس ٹیمیں بشمولSDRF، چوکس ہیں اور انہیں گرے ہوئے درختوں اور ملبے سے بند سڑکوں کو صاف کرنے میں مدد کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کی بحالی جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔








