
جموں/27فروری 2026ئ
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعہ کو کہا کہ نوجوانوں کے پاس معاشرے اور قوم کو مستقبل کی طرف لے جانے کے لئے بے پناہ صلاحیت ہیں۔اُنہوں نے دیرپا ترقی کے لئے متوازن ذہنوں اور جرا¿ت مند اِختراع کاروں کی تیاری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،”بااختیار نوجوان ہی مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں اور میرا ماننا ہے کہ فکری گہرائی، تخلیقی طاقت اورنوجوانوں کی اختراعی قیادت قومی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔”اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج جموں یونیورسٹی میں منعقدہ منفرد یوتھ فیسٹیول ’گونج 2026‘ کی اِفتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔دو روزہ اس تقریب میں مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے لئے منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔ یہ فیسٹول ذہن کو جِلا بخشے گا، جسم کو توانائی دے گا اور اِختراع کو پروان چڑھائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جب نوجوان اپنے اندر حوصلے کی شمع روشن کرتے ہیں اور پختہ یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو معاشرے اور قوم کے لئے نئی راہیں کھلتی ہیں۔اُنہوںنے طلبا¿کی ترغیب دی کہ وہ اِختراع کو اَپنائیں، نئی تحقیق کریں، جرا¿ت مندانہ تجربات کریں اور قوم کی تعمیر کے دروازے کھولیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”اَپنی روایات کا عزت کریں، اَپنے ماضی کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔ اس سے شناخت، اعتماد اور خود آگاہی کا وہ گہرا احساس پیدا ہوگا جو کوئی بھی کلاس روم مکمل طور پر نہیں سکھا سکتا۔“انہوںنے مشاہدہ کیا کہ تعلیم کا مقصد محض علم کا حصول نہیں بلکہ ایسے باشعور شہریوں کی تشکیل ہے جو اَپنی ذمہ داریوں کے تئیں حساس ہوں۔
منوج سِنہا نے کہا، “حقیقی تعلیم نوجوانوں کو ایسے نئے جوابات اور حل تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے جن کا دنیا نے ابھی تصور بھی نہیں کیا۔ طلبا¿ کیمپس میں صرف ڈگری حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ثقافت کی آبیاری، نئے خیالات کی تلاش، جرا¿ت مندانہ راستوں کے انتخاب اور سماجی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے داخل ہوتے ہیں۔“
اُنہوں نے کہا کہ دُنیا جس رفتار سے بدل رہی ہے وہ تقریباً سمجھ سے بالاتر ہے اور ٹیکنالوجی کے اِنقلاب نے خاموشی سے تعلیمی اِداروں اور صنعتوں دونوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے فیکلٹی ممبران کو ہدایت دی کہ وہ اعلیٰ تعلیمی کیمپس کو نئے آئیڈیاز کی تیاری کا مرکز بنائیں۔
اُنہوں نے کہا،”کوشش نصاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ مختلف شعبوں کے درمیان حقیقی مکالمہ ہونا چاہیے اور ہر کلاس روم کا ہر لیکچر نئی امکانات کی طرف ایک دروازہ بننا چاہیے۔“







