سری نگر:۵۲، فروری: : آج یعنی 26فروری 2026 بروزجمعرات کو یونیورسٹی آف کشمیرکا 21واں سالانہ کانووکیشن منعقد ہوگا،جس میں نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور کشمیر یونیورسٹی کے چانسلر منوج سنہا کانووکیشن کی صدارت کریں گے، جبکہ وزیر اعلیٰ اور پرو چانسلر عمر عبداللہ اس کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔سالانہ کانووکیشن کے دوران طلباءاور طالبات کو59,448ڈگریاں عطاکی جائیں گی ،جن میں 18ایم فل اور620پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی شامل ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق یونیورسٹی آف کشمیرکے 21واں سالانہ کانووکیشن میں نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن کی شرکت اور یہاں آمد کے پیش نظر سرینگر میں سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دئیے گئے ہیں، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں خاص کر کشمیر یونیورسٹی جانے والے سبھی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق نائب صدر سی پی رادھا کرشنن بدھ کی دوپہر سرینگر پہنچے اور سیدھے لوک بھون سری نگر روانہ ہوئے ،جہاں وہ ممکنہ طور پر قیام کریں گے اور پھر جمعرات 26فروری کوموصوف کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کنووکیشن کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے۔ گزشتہ برس جگدیپ دھنکر کے استعفیٰ کے بعد نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے والے رادھا کرشنن کا یہ کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔تقریب میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو سمیت متعدد شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔نائب صدر کے دورے کے پیش نظر جموں کشمیر پولیس اور نیم فوجی دستوں کو سرینگر شہر اور کشمیر یونیورسٹی جانے والی تمام راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ بلیووارڈ روڈ سمیت حضرت بل جانے والے راستوں پر اضافی فورسزدستے تعینات کیاگیاہے۔حکام کے مطابق سرینگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے حضرت بل میں واقع یونیورسٹی کیمپس تک خصوصی حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے۔کشمیریونیورسٹی کے اطراف میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اوریونیورسٹی کا کلاس ورک 3 دن کے لیے معطل کر دیا گیا ہے تاکہ تقریب کے انتظامات بخوبی مکمل کئے جا سکیں۔ادھرکشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے 21ویں سالانہ کانووکیشن کو تاریخی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 60 ہزار طلبہ کو ڈگریاں دی جائیں گی۔ ان میں انڈرگریجویٹ سے لے کر پی ایچ ڈی سطح تک کے طلبہ شامل ہیں، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو گولڈ میڈلز اور امتیازی اسناد سے بھی نوازا جائے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان کے مطابق نائب صدر کے ہاتھوں ڈگری وصول کرنے کے حوالے سے طلبہ میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن کے دوران کل 59,448 ڈگریاں عطاکی جائیں گی، جن میں 44,910 انڈرگریجویٹس، 13,545 پوسٹ گریجویٹ، 461 ایم ڈی/ایم ایس،4 ایم سی ایچ، 18 ایم فل اور 620 پی ایچ ڈی شامل ہیں۔اس دوران سرینگر ٹریفک پولیس نے جمعرات کو گپکار، نشاط روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ یہ وہی راستہ ہے جو لوک بھون کی جانب جاتا ہے جہاں نائب صدر قیام کریں گے۔پولیس کے مطابق گپکار سے نشاط اور شالیمار اور ہارون جانے والا ٹریفک بند رہے گا، جبکہ رام منشی باغ سے گرینڈ پیلس تک بھی نقل و حرکت محدود رہے گی۔ متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا ہے اور طبی ایمرجنسی کی صورت میں تصدیق کے بعد ہی اجازت دی جائے گی۔ ٹریفک حکام نے شہریوں، مسافروں کو سفر سے قبل ٹریفک ہدایات کو مدنظر رکھ کر محدود راستوں سے ہی سفر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ٹریفک پولیس سری نگر نے 26 فروری کو مجوزہ وی وی آئی پی کے دورے کے پیش نظرمنگل کو شہرسری نگرکیلئے بدھ کو ایک تفصیلی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں کئی اہم راستوں پر عارضی پابندیوں اور موڑ کا اعلان کیا گیا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق کسی بھی موٹرسائیکل کو بڈیاری چوک اور گپکار کے راستے نشاط، شالیمار، ہارون اور ملحقہ علاقوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح رام منشی باغ سے گرینڈ پلیس کی طرف ٹریفک کی آمدورفت معطل رہے گی اور گاڑیوں کو ڈل گیٹ، سنجرمل اور اخوان چوک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔حکام نے کہا کہ پابندی کی مدت کے دوران ڈل گیٹ، خیام، خانیار، رعناواری، سید کدل اور حضرت بل روڈ پر ٹریفک کی اجازت نہیں ہوگی۔ہارون، شالیمار، نشاط، گاندربل اور ملحقہ علاقوں سے لال چوک کی طرف سفر کرنے کا ارادہ رکھنے والے موٹرسائیکلوں کو چاند پورہ، تلبل، زکورہ، ملباغ، الٰہی باغ اور 90 فٹ روڈ سے برزہامہ کا راستہ اختیار کرنے اور اس کے برعکس جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ڈل گیٹ، لال چوک اور قریبی علاقوں سے ہارون، شالیمار اور نشاط کی طرف سفر کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سنگرمال، اخوان چوک، نوہٹہ، 90فٹ اور ملباغ روڈ کا استعمال کریں۔ہارون، شالیمار اور نشاط سے سری نگر ہوائی اڈے کی طرف جانے والے موٹر سواروں کو برزہامہ، چاند پورہ، تلبل، زکورہ، ملباغ، الٰہی باغ اور 90 فٹ روڈ سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔پانتھہ چوک اور پانڈریتھن سے آر ایم باغ کی طرف جانے والی گاڑیوں کو چوٹیوں، نوگام اور بائی پاس کے راستے جانے کی اجازت ہوگی۔عہدیداروں نے کہا کہ طبی ایمرجنسی کیسوں کو مناسب تصدیق کے بعد سہولت فراہم کی جائے گی۔ جن شہریوں کو مدد کی ضرورت ہے وہ ٹریفک پولیس کنٹرول روم 103 پر رابطہ کر سکتے ہی









