
سری نگر/26فروری 2026ئ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کیا۔ اِس تقریب میں نائب صدر ہند سی پی رادھاکرشنن نے بھی شرکت کی۔اُنہوں نے فارغ التحصیل طلبا¿ کو روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہا رکیا۔اُنہوں نے ان سے اَپنے مستقبل کے لئے ”ایک مقصد، ایک ترجیح ۔ پہلے ملک “ واضح راستہ طے کرنے کی ترغیب دِی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب آپ ملک کی تعمیر کرتے ہیں تو ملک بھی آپ کی تعمیر کرتا ہے۔ قومیں صرف وسائل سے نہیں اُبھرتیںبلکہ تعلیم یافتہ اَفراد سے ترقی کرتی ہیں اور جب قوم ترقی کرتی ہے تو آپ بھی ترقی کرتے ہیں۔“اُنہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی کا یہ کانووکیشن نسلی تبدیلی، تکمیل شدہ خوابوں اور جدید تعلیم پر نوجوانوں کے پختہ یقین کا واضح ثبوت ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،” کشمیر یونیورسٹی میں حاصل کردہ علم محض ہنر نہیں ہے بلکہ یہ جامع شخصیت کی نشوونما ہے۔ تعلیم خود اعتمادی پیدا کرتی ہے، بامعنی زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتی ہے اور ذمہ دار شہری بناتی ہے جو ذاتی کامیابی کو اجتماعی بھلائی سے جوڑتی ہے۔“اُنہوں نے کہا ،”تعلیم انسانی ہاتھو میں تبدیلی کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے ۔ یہ زِندگی کا رخ موڑ دیتی ہے، کنبوں کی تقدیر بدل دیتی ہے اور جب نوجوان اسے پوری طرح سے اَپنالیتے ہیں تو یہ قوم کے مستقبل کو بنیاد سے ازسرنو رقم کرتی ہے۔“منوج سِنہا نے اِس بات پر زو ردیا کہ کلاس روم کے خیالات دنیا پر اثر انداز ہونے چاہئیں۔ اُنہوں نے یونیورسٹیوں سے کہا کہ وہ علم کے محافظ ہونے کے روایتی کردار سے آگے بڑھ کر اِختراع کاروں، انسانی ترقی اور سماجی تبدیلی کے متحرک مراکز بنیں۔اُنہوں نے کہا،”میرا منتر ہے کہ صنعت اور ذہانت کو ایک ساتھ بڑھنا چاہیے۔ ہماری یونیورسٹیوں کو صنعت، اِختراع کاروں اور تحقیق و ترقیاتی تنظیموں کے ساتھ مل کر وِکشت بھارت کی تعمیر کرنی چاہیے اور اِس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی کیمپس او رکمپنیاں مل کر مستقبل بنائیں۔“

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ٹیکنالوجی تیز رفتاری سے ترقی کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل اِنقلاب، آرٹیفیشل انٹلی جنس، عالمی تبدیلیاں اور نئی مہارتوں کی طلب اعلیٰ تعلیم کو ازسرنو متعین کر رہی ہیں۔
اُنہوں نے کہا،” اِشتراک اور اِختراع کے مواقع نہ ختم ہونے والے ہیں۔ آج کے لئے تیار کی جا رہی کیریئرز کل بدل سکتے ہیں۔ صنعتیں نئے سرے سے بن رہی ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ تبدیلی آئے گی یا نہیںبلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ وہ نوجوان آگے بڑھیں گے جو تنقیدی سوچ، بنیادی علم اور مستقل سیکھنے کے عزم کے حامل ہوں۔“
اُنہوں نے کہا،” آرٹیفیشل اِنٹلی جنس اب صحت، زراعت، مالیات، شہری منصوبہ بندی اور حکمرانی سمیت ہر شعبے میں سرایت کر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی انسانی فلاح کی خدمت کرے گی یا محض منافع کی؟ میں یونیورسٹیوں کے کیمپس اس جواب کو تیار کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ،جہاں علم زندگی کی اقدار سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔“









