نئی دہلی/ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج کہا کہ جموں و کشمیر سال بھر ایک عالمی سیاحتی مقام کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے جس کی بنیاد نئے اعتماد، توسیع شدہ بنیادی ڈھانچے اور متنوع سیاحتی پیشکشوں پر ہے۔ وزیر اعلیٰ جمعرات کی شام نئی دہلی میں منعقدہ ایک شاندار تشہیری تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں مرکزی وزیرسیاحت گجیندر سنگھ شخاوت، سفارت کاروں، ٹریول ٹریڈ نمائندگان اور ہوٹل و مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اُنہوں نے جموں و کشمیر کی روحانی عظمت، دلکش مناظر اور متحرک ثقافتی ورثے کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر پورے بھارت اور دُنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت روایتی سیاحتی مقامات سے آگے بڑھ کر سیاحت کے دائرے کو وسیع کرنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نئے سیاحتی سرکٹوںکی ترقی اور نو اُبھرتے ہوئے مقامات کی نشاندہی کا اعلان کیا جن کا مقصدسیاحوں کو نئے اور منفرد تجربات فراہم کرنا ہے۔اُنہوں نے حالیہ چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ماضی کے تجربات سے اہم اسباق حاصل کئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا،” کیا ہم نے گزشتہ برس ہونے والے واقعات سے سبق سیکھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنے کئی بند کردہ سیاحتی مقامات کھولنے میںبہت وقت لگا،یہ وہ اسباق ہیں جو ہم نے سیکھے ہیں۔“ اُنہوں نے مزید کہا کہ اَب توجہ مستقبل پر اور ایک مضبوط اور مو¿ثر سیاحتی نظام کی تعمیر پر مرکوز ہے۔
یہ تقریب جموں و کشمیر ٹوراِزم فورم کی جانب سے ممتاز ہوٹلیئر مشتاق چایا کی قیادت میں منعقد کی گئی۔ فورم کے اعزازی سیکرٹری جنرل واحد ملک نے اس اِجتماع کو جموں و کشمیر کو ایک محفوظ اور متحرک تمام سیزن کے سیاحتی مقام قرار دینے کے لئے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔مشتاق چایا نے موجودہ دور کو ”بے مثال پیش رفت اور تعمیر و ترقی“کا مرحلہ قرار دیتے ہوئے سیاحوں کو عالمی معیار کی مہمان نوازی اور جموں و کشمیر بھر میں بہتر سہولیات کی فراہمی کا یقین دِلایا۔






