سید اعجاز
ترال//مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں لداخ اور جموں و کشمیر سمیت ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کے برف پوش علاقوں میں خود شماری (سیلف اینومریشن) کے ساتھ مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں منگل کے روز ٹاو¿ن ہال ترال میں ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمشنر (اے ڈی سی) ترال، ساجد یحییٰ نقاش نے کی۔ حکام کے مطابق یہ عمل 17 اگست سے شروع ہو کر 31 اگست 2026 تک جاری رہے گااس موقعے پر مردم شماری کے لیے تعینات عملے کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی اور ان پر زور دیا گیا کہ وہ برفانی علاقوں میں مردم شماری کے دوران تمام ضوابط کی سختی سے پابندی کریں، کیونکہ یہ ڈیٹا آنے والے برسوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد بنے گا۔ میٹنگ میں فیلڈ ٹیموں کے ارکان بھی موجود تھے، جنہیں مردم شماری کا کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔عملے کو تاکید کی گئی کہ وہ مختلف نمائندوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ مو¿ثر رابطہ اور ہم آہنگی قائم کر کے اس کام کو بروقت مکمل کریں۔ مزید برآں، ان پر زور دیا گیا کہ وہ تمام کوائف اور ڈیٹا کو انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ درج کریں، کیونکہ یہ ملک کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری ہے جسے ملک کی جامع ترقی کے لیے زیرِ استعمال لایا جائے گا۔ اس موقعے پر عوام سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ مردم شماری کے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور انہیں درست معلومات فراہم کریں۔اے ڈی سی ترال ساجد یحییٰ نقاش نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کے سلسلے میں منعقدہ یہ میٹنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جس میں برفانی علاقوں کے لیے ملازمین کو واضح اور حتمی ہدایات جاری کی گئی ہیںیہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترال اسے قبل کئی گئی مردم شماری میں اول نمبر پر رہا ۔





