
سید اعجاز
ترال//برن پتھرہی ناگہ بل ترال قدتی حسن سے مالا ہے اور جہاں تک نظر جاتی ہے ہر سُودلفریب مناظر نظر آتے ہیں ۔تاہم گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس علاقے پر سرکار کی نظر نہیں پڑی جس کی وجہ سے یہ خوبصورت علاقہ تعمیر و ترقی میں پسماندہ رہا ہے۔ ترال قصبے سے قریب9کلو میٹر دور برن پتھری 3فلک بھوس پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے جہاں ایک خوبصورت پانہ نالہ بہتا ہے جس کی آواز انسان کے دل کو سکون دیتا ہے جبکہ کئی مقامات پر چھوٹے چھوٹے میدان بھی موجود ہیں ۔برن پتھری کے لوگوں کو کئی دہائیوں تک پہلے ،ناگہ بل تک پیدل یا گھوڑے پر سفر کرتے تھاجس کے نتیجے میں یہ علاقہ انتہائی خوبصورت ہونے کے باجود عوام کے لئے مشکلات کا ایک گھر بنا تھا جس کی وجہ سے یہاں لوگ پریشانیوں سے دوچار تھے۔ تاہم مرکزی معاونت والی اسکیمPMGSYکے تحت یہاں ایک سڑک کو چند سال قبل بہتر انداز میں تعمیر ہوئی ہے جس کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کی زندگی۔تعلیمی،اقتصادی اور سماجی طور پر بھی کافی حد تک بدل چکی ہے ۔علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے بتایا سڑک کی تعمیر کے لئے سرکار کے مشکور ہیں تاہم روز گار کے لئے یہاں کے نوجوان آج بھی ترس رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا اس علاقے میں کوئی کام کاج نہیں ہے ۔انہوں نے بتایا گاﺅں میں سڑک تعمیر ہونے کے بعد مختلف علاقوں کے لوگ یہاں آنے لگے کیوں کہ علاقے کو قدرت نے اپنی لا مثال خوبصورتی سے نوازا ہے لیکن سرکاری طور پر اس علاقے کو اگر سیاحتی نقشے پر لایا جاتا ہے تو یہاں کے کئی گاﺅں دیہات کے لوگوں کے نوجوان کو خود روز گار کمانے کا موقع فراہم ہوتا ۔ برن پتھری سے چند کلو میٹر دور بانل مرگ ایک ایسی جگہ ہے جس کے ساتھ دیگر ایک درجن سے زیادایسے مقامات ہیں جن کو دیکھ کرانسان کا دل و ماغ تازہ ہوتا ہے ۔عاشق حسین نامی ایک نوجوان نے بتایا بانل مرگ پہنچنے کے بعد یہاں دیکھنے کے لئے درجنوں مقامات ایسے ہیں جو دیکھنے کے قابل ہیںہے ان کا ماننا ہے کہ اگر صرف بانل مرگ یا ”کان ستر“تک سڑک کو تعمیر کیا جائے تو اس کے بعد لوگ آرام سے ،جن مسجد،ژوٹ ناڈ، وگبل، گردول،زیٹھ ہیڈ،لچھ دلو،ژن پتھر،یاڈ نخ ،وٹ وگن ،چھمب نئی ،سمیت متعدد علاقوں کا ایک سیلانی دورہ کر سکتا ہے ۔ادھر برن پتھری ترال کے نوجوانوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے اس بستی میں موجود چھوٹے چھوٹے میدانوں کو پارکوں میں تبدیل کیا جائے اور علاقے میں سے اہم کسی بھی کمپنی کا ،موصلاتی ٹاور کو قائم کیا جائے تاکہ علاقے کے لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا ہڑے ۔انہوں نے بتایا دور جدید میں وہ اس اہم سہولیات سے محروم ہیں ۔






