سری نگر:۹،ستمبر: ج : دنیا کے بااثر اورترقی یافتہ ممالک کی تنظیمG20کا18واں سربراہی اجلاس ہفتہ کو نئی دہلی میں بھارت کی صدارت میں شروع ہو ا،جو اتوار کو بھی جاری رہے گا۔2023کیلئے G-20اجلاس کا مرکزی موضوع’ایک زمین ،ایک خاندان ،ایک مستقبل ‘ہے۔بھارت کی زیرصدارت2روزہ اجلاس میںماسوائے کچھ ایک کے تمام ممبر ممالک کے سربراہان حکومت شرکت کررہے ہیں جبکہ 15ملکوں کے حکومتی سربراہان اور نمائندے بطور مبصرین یا خصوصی مدعوئین کے اس اہم اجلاس میں شریک ہیں ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق 9ستمبر کو شروع ہونے والے جی20جلاس میں جوعالمی رہنما شریک ہیں ،اُن میں امریکی صدر جوبائیڈن،برطانیہ کے وزیراعظم رشی سناک، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون،سعودی عرب کے وزیراعظم ولی عہد محمد بن سلمان السعود، جاپان،جرمنی ،اٹلی ،کینیڈا ،ترکی ،متحدہ عرب امارات،جنوبی کوریا،یورپی یونین ،برازیل اور نائجیریاکے سربراہان حکومت اوراعلیٰ حکومتی ذمہ داران کے علاوہ روس اور چین کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شامل ہیں ۔اسکے علاوہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اورماریشاکے وزیراعظم پرویند جگناتھ بھی اجلاس میں موجود ہیں۔ ہفتہ کی صبح وزیر اعظم مودی نے جی20 سربراہی اجلاس کے مقام بھارت منڈپم میں امریکی صدر جو بائیڈن اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک سمیت دنیا کے کئی ممالک کے رہنماو ¿ں کا خیرمقدم کیا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر اور صدر کرسٹالینا جارجیوا اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل نگوزی اوکونجوآئی ویلا جی20 سربراہی اجلاس کے مقام پر پہنچنے والے پہلے لوگوں میں شامل تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کونئی دہلی کے پرگتی میدان میں نوتعمیر شدہ ’بھارت منڈپم‘میںجی20سربراہی اجلاس کا آغاز مراکش کے زلزلے میں مارے گئے لوگوں کےساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کیا ۔انہوںنے اپنے ابتدائی کلمات میں دنیا سے مل کر عالمی اعتماد کے خسارے کو اعتماد اور بھروسہ میں تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اگر دنیا کووڈ 19کو شکست دے سکتی ہے تو وہ جنگ کی وجہ سے ہونے والے اعتماد کے خسارے پر بھی فتح حاصل کر سکتی ہے۔وزیراعظم مودی نے کہاکہ یہ وقت ہے ہم سب کے ساتھ مل کر چلنے کا۔ اس وقت’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پرایاس‘کا منتر ہمارے لئے مشعل بردار ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو عالمی رہنماو ¿ں پر زور دیا کہ وہ عالمی اعتماد کے خسارے کو ایک دوسرے پر اعتماد میں بدلیں اور پرانے چیلنجوں کے نئے حل تلاش کریں۔انہوں نے کہاکہ اقوام عالم کی بھلائی کےلئے ساتھ چلنے کا وقت، جنگ کی وجہ سے اعتماد کی کمی پر فتح حاصل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے 2روزہ G20سربراہی اجلاس کاصدر کی حیثیت سے آغاز کرنے کے بعد اپناخطاب 10باتوں پر مرکوز رکھا ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہم مراکش میں زلزلے میں زخمی ہونے والوں کے لیے دعاگو ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ اس مشکل وقت میں پوری دنیا مراکش کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ تمام زخمی افراد جلد صحت یاب ہو جائیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہم جی20 سربراہی اجلاس میں تمام مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اس اہم اجلاس کو 21ویں صدی میں ہم ایک نیا ورلڈ آرڈر دیکھ رہے ہیں۔ انسان پر مبنی نقطہ نظر وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا اپنے خطاب میں کہناتھاکہ یہ وہ وقت ہے جب پرانے چیلنجز ہم سے نئے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے ہم سب کے ساتھ مل کر چلنے کا۔انہوںنے عالمی رہنماﺅں اورپالیسی سازوںسے مخاطب ہوکر کہاکہ اگر ہم کووڈ19 کو شکست دے سکتے ہیں، تو ہم اعتماد کےساتھ کسی بھی مسئلے سے لڑ سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم دنیا میں اعتماد کی کمی کو مزید قابل اعتماد رشتوں میں تبدیل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہمیں عالمی اعتماد کے خسارے کو کم کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان کی جی20 کی صدارت نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں شمولیت کی علامت ہے۔ ہمیں ایک بہتر مستقبل بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔انہوںنے مزید کہاکہ یہ وقت ہے ہم سب کو ایک ساتھ مل کر چلنے کا۔ ایسے وقت میں’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشوس، سب کا پریاس‘کا منتر ہمارے لیے رہنما ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ چاہے وہ شمال اور جنوب کی تقسیم ہو، مشرق اور مغرب کی تقسیم ہو، خوراک اور ایندھن کا انتظام ہو، دہشت گردی ہو، سائبر سکیورٹی، صحت، توانائی یا پانی کی حفاظت ہو، ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ٹھوس حل تلاش کرنے چاہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ ہندوستان نے افریقی یونین کو جی20 کا مستقل رکن بنانے کی پیشکش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ تمام ممبران اس تجویز سے اتفاق کریں گے۔ آپ سب کے تعاون سے میں افریقی یونین کو جی20 میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 21ویں صدی کا یہ وقت ایک اہم وقت ہے جو پوری دنیا کو نئی سمت دکھا رہا ہے اور دے رہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب پرانے چیلنجز ہم سے نئے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی تمام ذمہ داریوں کو انسان پر مرکوز رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان کی جی20 صدارت ملک کے اندر اور باہر شمولیت اور اتحاد کی علامت بن گئی ہے۔ ہندوستان میں یہ پیپلز جی20 بن گیا ہے۔ کروڑوں ہندوستانی اس میں شامل ہوئے، ملک کے 60 سے زیادہ شہروں میں 200 سے زیادہ میٹنگیں ہوئیں۔امریکی صدر جو بائیڈن، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، برطانیہ کے وزیر اعظم رشی نے جی 20 لیڈروں کے سربراہی اجلاس کے ’ایک زمین ،ایک خاندان ،ایک مستقبل‘ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ وقت ہے کہ ہم سب عالمی بھلائی کے لیے مل کر چلیں۔انہوں نے یہاں بھارت منڈپم کنونشن سینٹر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کووڈ وبائی مرض کے بعد، دنیا کو اعتماد کی کمی کے ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا اور بدقسمتی سے جنگوں نے اسے مزید گہرا کر دیا ہے۔لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم کووڈ جیسی وبائی بیماری کو شکست دے سکتے ہیں، تو ہم اس اعتماد کی کمی کے چیلنج کو بھی جیت سکتے ہیں۔









