سری نگر30 دسمبر , جموں کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آر آر سوین نے پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جموں و کشمیر میں 2023 میں ملی ٹنسی کی بھرتیوں میں 80 فیصد کی کمی آئی ہے”۔کشمیرنیوز سروس ( کے این ایس )کے مطابق کہ پی ایچ کیو جموں میں سال کے آخر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی آر آر سوائن نے کہا کہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد مل گئی ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیے ہیں وہ یقینی طور پر قابل ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2023 میں ملی ٹنٹوں کی صفوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی میں 80فیصد کمی واقع ہوئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم اس موقع پر اعداد و شمار کا انکشاف نہیں کرنا چاہتے لیکن آپ کی معلومات کے لئے 2023 میں صرف 22بھرتیاں ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ سال کے دوران کل48ملی ٹنسی مخالف آپریشنوں کو انجام دیا گیا ہے جس میں76ملی ٹینٹ مارے گئے ہیں جن میں55ملی ٹینٹ غیر ملکی تھے جبکہ مہلوکین میں21مقامی تھے پولیس سربراہ نے بتایا ایک تجزیہ کے مطابق 2022کے بعد یہاں زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی ہے جبکہ مقامی ملی ٹینٹو ں کی تعداد کم ہے آر آر سوین نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر پولیس دہشت گرد صفوں میں بھرتی کو روکنے کے لئے ہر سطح پر کوشش کرے گی اور اس کے علاوہ تشدد کے واقعات کو ختم کرنے کی پولیس کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری لڑائی میں، 2023 میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مختلف گروپوں کے 113ملی ٹنٹوں کو مارا گیا بے جبکہ انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں 31 مقامی شناخت شدہ دہشت گرد سرگرم ہیں جن میں”27 سرگرم ملی ٹینٹ کا تعلق کشمیر زون سے ہے جبکہ 4 کا تعلق جموں کے علاقوں سے ہے“۔پولیس چیف نے بتایا سخت گیر نظریے کو ختم کرنے میں جو حاصل ہوئی ہے اس میں اس سال "یو اے پی اے” کے تحت دو علیحدگی پسند تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے جس میں شبیر شاہ کی قیادت والی ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی؛اور مسرت عالم کی قیادت والی مسلم لیگ شامل ہیں۔ مکمل سٹوری کل کے شمارے میں ضرور پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔









