سرینگر، 19 جنوری (کے این ایس): حکومت نے جمعرات کو قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ کشمیر میں تقریباً 70 افراد، جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں، منشیات کے استعمال میں ملوث ہیں، جن میں سے تقریباً 50ہزارہیروئن استعمال کرنے والے ہیں۔ایم ایل اے جاوید ریاض کے ذریعہ اسمبلی میں پیش کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے، محکمہ صحت اور طبی تعلیم نے کہا کہ جموں و کشمیر، ملک کے بہت سے دوسرے خطوں کی طرح، نشہ آور ادویات اور سائیکو ٹراپک مادوں کی لعنت سے دوچار ہے، جس سے سماجی اور عوامی صحت کے سنگین خدشات لاحق ہیں۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق حکومت نے کہا، اس نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے، جس میں بیداری مہم، احتیاطی مداخلت، نفاذ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا اور علاج اور بحالی کی سہولیات کی توسیع شامل ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ 2022میں محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے کشمیر کے 10 اضلاع میں کئے گئے مشترکہ سروے کے مطابق تقریباً 70 افراد منشیات کے استعمال میں ملوث پائے گئے۔جواب میں مزید کہا گیا ہے، یونین ٹیریٹری میں ڈی ایڈکشن اور بحالی مراکز کا ایک نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، جس میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں، سرکاری میڈیکل کالجوں اور پولیس کے زیر انتظام مراکز میں سہولیات شامل ہیں۔ اب تک، تقریباً 69ہزارمریضوں کو جموں و کشمیر میں نشے کے علاج کی مختلف سہولیات میں علاج اور بازآبادکاری کی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔حکومت نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ مفت خدمات بشمول OPD´IPD دیکھ بھال، ہنگامی خدمات اور Opioid سبسٹی ٹیوشن تھراپی (OST)، میڈیکل کالجوں اور ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں نشے کے علاج کی سہولیات (ATFs) کے ذریعے دستیاب ہیں۔






