سری نگر/25جون 2026ئلیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جمعرات کو پہلگام میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور 3 جولائی سے شروع ہونے والی شری امرناتھ جی یاترا۔2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر شری اَمرناتھ جی شرائین بورڈ ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکرٹری اَمورِ نوجوان و کھیل کود محکمہ اور پہلگام محور کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی، آئی جی پی ٹریفک جموںوکشمیر ایم سلیمان چودھری،ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ ،ایس ایس پی اننت ناگ امود ناگپورے اشوک اور سول اِنتظامیہ، پولیس اور سیکورٹی فورسز کے سینئر افسران نے شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے لاجسٹکس، رہائش، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، بجلی اور پانی کی فراہمی، شہری سہولیات کی دستیابی، روڈ کنکٹویٹی، آر ایف آئی ڈی کارڈز، جوائنٹ کنٹرول روموںکے کام، ٹریک کی بحالی اور توسیع کے کام، فٹ برجوں کی تعمیر، لنگروں کے قیام، ہولڈنگ ائیریاز کی تیاری، ٹریفک مینجمنٹ اور سیکورٹی اِنتظامات سمیت تمام اہم شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اُنہوں نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ یاترا کے لئے بہترین اِنتظامات، فول پروف سیکورٹی اور یاتریوں کے لئے ایک یادگار تجربہ یقینی بنائیں۔
لیفٹیننٹ گورنرنے یاترا کے پُرامن اور احسن اِنعقاد کے لئے جامع سیکورٹی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ منصوبہ بندی پر زور دیا۔
اُنہوں نے کہا،”یاترا کا انتظام ایک جامع، مخلوط منصوبہ بندی کے طریقے کا تقاضا کرتا ہے اور عملی کوتاہیوں کے لئے صفر برداشت کی پالیسی ہونی چاہیے۔ آپریشنز کو بلند پہاڑی علاقوں، سخت موسمی حالات اور بڑی تعداد میں ہجوم سے متعلق خطرات کو مو¿ثر انداز میں کم کرنا ہوگا۔“
حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے موسم کی بنیاد پر انخلا کے طریقہ¿ کار تیار کئے جائیں اور اہم مقامات پر ماو¿نٹین ریسپانس ٹیمز (ایم آر ٹیز) تعینات کی جائیں۔ اِس کے علاوہ تمام ٹرانزٹ خیموں کی سخت معیار جانچ کی جائے اور انہیں فنکشنل آگ بجھانے والے آلات سے لیس ہونا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے حکام کو ہدایت دی کہ راستوں پر ہجوم کے حقیقی وقت کے تجزیے کے ذریعے رکاوٹ والے مقامات کی نشاندہی اور انہیں دور کیا جائے جبکہ ٹریفک کے بہتر انتظام اور مخصوص پارکنگ زونوں کا نفاذ کیا جائے تاکہ بھیڑ سے بچا جا سکے اور ضروری سامان کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔






