”سرینگر، 26جولائی 2026/ وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ”آپریشن سندور کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کی ہر مہم جوئی کا اس کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔“ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور اگر کوئی مذاکرات ہوئے بھی تو ان کا واحد موضوع پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) ہوگا، جسے انہوں نے بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ 26 جولائی 2026 کو دراس میں 27ویں کرگل وجے دیوس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت کی خودمختاری کے خلاف کی جانے والی ہر مذموم کارروائی کا اسی عزم اور مضبوطی کے ساتھ جواب دیا جائے گا، جس طرح بھارتی مسلح افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مو¿ثر اور فیصلہ کن جواب دیا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا: ”پاکستان کی فوج نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام بھی کرتی ہے۔ اسی لیے آپریشن سندور کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ بھارت اب دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کو الگ الگ نہیں سمجھتا۔“
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ کرگل جنگ کو 27 برس گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں بھارت اور پاکستان کے راستے یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ”جہاں بھارت اختراع اور جدت کے نئے افق تلاش کر رہا ہے، وہیں پاکستان دراندازی کے نئے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ بھارت چِپ ڈیزائن کر رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بھارت ایک مضبوط اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کا ماحولیاتی نظام پروان چڑھا رہا ہے۔ بھارت سیمی کنڈکٹر تیار کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خودکش حملہ آور تیار کر رہا ہے۔ بھارت خلائی مشنوں کی بدولت دنیا میں پہچانا جاتا ہے، جبکہ پاکستان پراکسی مشن چلا رہا ہے۔ بھارت خلا میں سیٹلائٹ بھیج رہا ہے، جبکہ پاکستان سرحد پار دہشت گرد بھیجنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ بھارت دنیا کو سافٹ ویئر فراہم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان سلیپر سیلز برآمد کر رہا ہے۔ بھارت جدید ڈیٹا سینٹر قائم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان انتہاپسندی کو فروغ دینے والے مراکز قائم کر رہا ہے۔ بھارت یو پی آئی کے ذریعے دنیا کو باہم جوڑ رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کو حوالہ نیٹ ورکس سے جوڑنے میں مصروف ہے۔“
انہوں نے کہا: ”مختصراً یہ کہ ہمارے راستے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر پاکستان اپنی مذموم سازشوں کے ذریعے ہماری ترقی اور خوشحالی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہماری مسلح افواج اسے منہ توڑ اور مو¿ثر جواب دینے کے لیے ہر وقت پوری طرح تیار ہیں۔“
جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت میں یہ مضبوط سیاسی عزم موجود ہے کہ وہ مسلح افواج کو ہر خطرے کا مو¿ثر اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل آزادی دے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب تک بھارتی فوجی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، کوئی بھی دشمن بھارت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔
وزیرِ دفاع نے 1999 کی کرگل جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بھارت کے بہادر سپاہیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان بے شمار جانبازوں کو یاد کیا، جن میں پرم ویر چکر سے سرفراز کیپٹن وکرم بترا اور کیپٹن منوج کمار پانڈے بھی شامل ہیں، جو آج بھی پوری قوم، خصوصاً نوجوانوں، کے لیے باعثِ ترغیب ہیں۔






