
سرینگر، 26جولائی 2026/ چنار بک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا آج شاندار اختتام ہوا۔ نو روز تک جاری رہنے والے اس ادبی و ثقافتی میلے نے کشمیر بھر سے آنے والے ہزاروں شائقین کو سری نگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) میں یکجا کیا۔ روزانہ تقریبا 57 ہزار سے 73 ہزار افراد نے فیسٹیول میں شامل ہوئے، جب کہ تعطیلات کے دوران شرکائ کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی، جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ چنار بک فیسٹیول کشمیر کا سب سے بڑا ادبی اور ثقافتی جشن بن چکا ہے۔
وزارتِ تعلیم کے تحت نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیاکی جانب سے ضلع انتظامیہ، سری نگر اور قومی کونسل برائے فرغ اردو زبان کے اشتراک سے منعقد ہونے والے اس فیسٹیول میں 200 سے زائد ناشرین، 800 سے زیادہ ادیب، مصنفین اور فنکار شریک ہوئے، جب کہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ، خاندانوں اور کتاب دوست افراد نے بھرپور شرکت کی۔ "مل کر پڑھیں، مل کر آگے بڑھیں” کے مرکزی موضوع پر مبنی اس نو روزہ میلے نے سری نگر کو علم، ثقافت، تخلیقی فکر اور سماجی ہم آہنگی کا مرکز بنا دیا۔
فیسٹیول کا افتتاح 18 جولائی کو جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے اس فیسٹیول کو خطے میں امن، مثبت تبدیلی اور خود اعتمادی کی علامت قرار دیتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مطالعہ اور تحریر کو اپنی ہفتہ وار زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
افتتاحی تقریب کے دوران 2025 کے گوجری ترجمہ ورکشاپ کے تحت تیار کی گئی 24 دو لسانی کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ اسی موقع پر راج ترنگنی سمواد منصوبے کے تحت کلہن کی بارہویں صدی کی شاہکار تصنیف راج ترنگنی سے ماخوذ پانچ نئے ناول بھی پیش کیے گئے، جنہیں عصرِ حاضر کے قارئین کے لیے نئے انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں کتاب "جموں، کشمیر اور لداخ: عہد بہ عہد” کے اردو ترجمے کی بھی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔فیسٹیول کے ساتویں دن نیشنل بک ٹرسٹ نے بسلیری کے اشتراک سے بچوں کی مزاحیہ کتاب "ودیا اینڈ چھوٹا بھیم: بگ گرین مشن” کو 48 زبانوں میں جاری کیا۔ اس کتاب کے ذریعے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ پلاسٹک کی آلودگی کے خلاف مہم میں اہم کردار ادا کریں اور ماحول کے تحفظ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔چنار بک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کی نمایاں خصوصیات میں مختلف ادبی نشستیں، مکالمے اور ممتاز شخصیات کے ساتھ خصوصی گفتگو ہوئی۔بھارتی خلانورد گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا، اے سی نے 2,200 سے زائد بچوں سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک اپنے سفر کے تجربات بیان کیے اور طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ تجسس، نظم و ضبط اور مسلسل محنت کو اپنی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔معروف اداکار راکیش بیدی نے اپنے منفرد مزاحیہ انداز سے سامعین کو محظوظ کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ تخلیقی شعبوں شوق اور لگن کے ساتھ آگے بڑھیں۔ فلم ساز امتیاز علی نے کہانی، روحانیت اور سینما کے موضوع پر ایک بہت دل چسپ نشست میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی فلموں سے وابستہ کئی ذاتی یادیں اور تخلیقی تجربات حاضرین کے ساتھ شیئر کیے۔
ان نشستوں کے علاوہ فیسٹیول کے "مصنفین کے گوشے” (Authors’ Corner) میں منعقد ہونے والے مباحثوں نے کشمیر کی شناخت کو مختلف زاویوں سے اجاگر کیا۔ ان نشستوں میں صحافت اور کہانی گوئی کے بدلتے ہوئے رجحانات، اردو زبان اور کشمیریت کے باہمی ثقافتی رشتے، کشمیری تھیٹر کی بحالی، وادی کی ادبی جمالیات کے ارتقا، روایتی دستکاری اور ملبوسات کے تحفظ، کشمیر کی زبانوں اور ادبی ورثے کی بقا، نیز ادب اور ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے کشمیر کی سیاحت کو نئی جہت دینے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔







