سید عجاز
ترال //نا قابل یقین لیکن سچ ہے کہ ترال میں محکمہ آر اینڈ بی تا حال درجنوں سرکاری محکموں کے لئے سیکنڈوں کی تعداد میں عالی شان عمارتوں کو تعمیر کیا ہے۔ تاہم یہ محکمے اس وقت بس اسٹینڈ کے قریب ایک معمولی شیڈ میں اپنا دفتر چلا رہے ہیں ۔ محکمے نے سب ضلع ترال میں اپنے قیام سے آج تک متعدد چھوٹی بڑی بڑی عمارتوں کو تعمیر کیا ہے جن میںمتعدد سرکاری دفاتر کام کر رہیں ۔تاہم ستم ظریفی ہے کہ مزکرہ محکمے کو اپنا سر چھپانے کے لئے سب ضلع میں وسیع سرکاری اراضی موجود ہونے کے باجود جگہ یا عمارت نہیں ملی ہے ۔معلوم ہواہے کہ محکمے کا دفتر پہلے ایک کرایہ کی عمارت میں تھا تاہم بعد میں محکمے کی جانب سے کرایہ کے معاملے میں مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اسی شیڈ میں پناہ کی ہے ۔ عوامی حلقوں نے حیران کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمے کو دفتر نہ ہونا باعث شرمندگی ہے ۔انہوں نے بتایا متعددمحکمے نجی عمارتوں میں ہے آخر اس محکمے کے لئے سرکاری کرایہ کیوں فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے سب ضلع ترال کے لئے منی سیکٹریٹ کی عمارت کو آج سے کئی سال قبل روک دیا گیا ہے جوتاحال دوبارہ شروع نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے سب ضل کے مختلف سرکاری محکمے نجی عمارتوں میں ہیں ۔ جبکہ اس وقت سرکاری نے عوام کے ساتھ ساتھ سرکاری محکموں کو ایک ہی جگہ جمع کرنے کی غرض سے منی سیکٹریٹ کو میونسپل کمیٹی ترال کے قریب تعمیر کرنا شروع کیا تھا۔لوگوں نے منی سیکرٹریٹ پر فوری طور کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ منی سیکرٹریٹ پہلے جے کے پی سی سی تعمیر کر رہا تھا جس کو بعد میں آر اینڈ بی کم ضم کیا گیا ہے ۔