سری نگر/26فروری 2026ئ جموں و کشمیر ایمپلائز کوآرڈی نیشن کمیٹی (جے کے اِی سی سی) کے ایک وفد نے آج وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت وطبی تعلیم سکینہ اِیتو سے ملاقات کی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت اور وزیر تعلیم کا بروقت اور ہمدردانہ مداخلت پر تہہ دل سے شکریہ اَدا کیا جس کے تحت جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری میں برسرِ خدمت اساتذہ کے لئے ٹیچر ز ایبلٹی ٹیسٹ (ٹی اِی ٹی) کی شرط سے متعلق حکم نامے کو مو¿خر رکھا گیا۔جے کے اِی سی سی کے سینئر نمائندوں پر مشتمل وفد نے وزیرموصوفہ کو حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ہزاروں حاضر سروس اساتذہ میں پائی جانے والی وسیع پیمانے پر تشویش اور بے چینی سے آگاہ کیا۔ اُنہوں اِس بات پر زور دیا کہ بہت سے تجربہ کار اَساتذہ، جو برسوں سے دُور دراز اور دُشوار گزار علاقوں میں وقف خدمت انجام دے رہے ہیں، اس ہدایت کے اَپنے پیشہ ورانہ استحکام اور حوصلے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے فکرمند تھے۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے وفد سکے ساتھ بات چیت میں تدریسی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے نمائندوں کو یقین دِلایا کہ محکمہ تمام شراکت داروں سے مشاورت کے لئے تیار ہے تاکہ تعلیمی شعبے میں اِصلاحات کو منصفانہ، شفاف اور طلبا¿ و اَساتذہ دونوں کے وسیع تر مفاد میں عملایاجا سکے۔وزیر موصوفہ نے کہا،”جموں و کشمیر کے اَساتذہ نے بنیادی ڈھانچے کی کمی، موسمی چیلنجوں اور دشوار گزار علاقوں کے باوجود معاشرے کی خدمت اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں مسلسل کردار ادا کیا ہے۔“






