سری نگر/13مئی 2026ئ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج کپواڑہ میں ”نشہ م±کت جموں و کشمیر مہم“ کی پدیاترا میں شرکت کی۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے ایک عوامی اِجتماع سے بھی خطاب کیا۔ اُنہوںنے کہا کہ گزشتہ 32 دِنوںمیںسول اور پولیس اِنتظامیہ نے منشیات سمگلنگ کے پورے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اوریہ عوامی تحریک منشیات کے خلاف ایک اِنقلاب میں تبدیل ہو رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”ہماری مسلسل کارروائی نارکو دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کر رہی ہے۔ کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیںقرق کی گئی ہیں، اثاثے قبضے میں لئے گئے ہیں اور 15 سمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ زائداَز730 سمگلروں اور منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔“اُنہوں نے کہا کہ اپریل میں اِس مہم کے آغاز پر بہت سے لوگوں کو منشیات کے خلاف عوامی تحریک کے اِمکان پر شک تھا اور بیدار عوام کی طاقت اور شہری تعاون کے ساتھ پُرعزم حکمرانی کے اثرات کو کم سمجھا۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا،”عوامی شمولیت اور پورے یونین ٹیریٹری میں بھرپور حمایت کے ساتھ گاﺅں، شہری محلوں، سکولوں، کالجوں اور جموں و کشمیر کی گلیوں میں ایک حقیقی عوامی تحریک اُبھر کر سامنے آئی ہے۔“
اُنہوں نے کہا،”منشیات کے خلاف یہ جنگ طویل ہے۔کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے لوگوں نے منشیات اور دہشت گردی کو الگ الگ خطرات کے طور پر دیکھا، لیکن یہ دو الگ مسائل نہیں بلکہ ایک ہی سانپ کے دو سر ہیں۔ ایک سر منشیات سے پیسہ کماتا ہے جبکہ دوسرا اسی پیسے کو دہشت گردی کے لئے اِستعمال کرتا ہے۔ ہمارا دہشت گرد پڑوسی ملک منشیات سمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کو مالی معاونت فراہم کرنے میں ملوث ہے اور منشیات و پیسے دونوں کو معصوم کشمیریوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔“
منوج سِنہا نے مزید کہا کہ منشیات سمگلنگ کنبوں اور کمیونٹیوںکو تباہ کر رہی ہے اور دہشت گرد گروہوں کو زندگی فراہم کر رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ منشیات سمگلنگ نیٹ ورکس کو ختم کرکے اِنتظامیہ دہشت گردی کو ایندھن فراہم کرنے والی شہ رگ کو کاٹ رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا،”کپواڑہ اور ہندواڑہ کے علاقوں میں مجموعی طور پر 28 منشیات سمگلر اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ میں پولیس اَفسران، کپواڑہ کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجیوں اور اینٹی نارکوٹکس ٹاسک فورس کے اہلکاروں سے اپیل کرتا ہوں کہ ایک بھی مجرم کو فرار نہ ہونے دیں۔ سرحدی ضلع ہونے کے ناطے کپواڑہ کو مزید چوکس رہنا ہوگا اور منشیات سمگلروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی ہوگی۔“






