سرینگر//
جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول ( آئی ایف اید جے کے ۔ 2026 ) کے دوسرے دن جموں و کشمیر کو پائیدار سنیمائی ماحولیاتی نظام بنانے کے امکانات پر ایک دلچسپ پالیسی مکالمہ ہوا جس میں چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے مقامی ٹیلنٹ ، فلم سازی ، فلمی تعلیم اور سرمایہ کاری کیلئے ساز گار ماحول بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔
معروف فلم نقاد اور صحافی مایانک شیکھر کی زیر صدارت ” جموں و کشمیر فلم پالیسی ، سنگل ونڈو کلیئرنسز اور مراعات کس طرح پائیدار مقامی سنیمائی ماحولیاتی نظام قائم کر سکتی ہیں “ کے موضوع پر ہونے والے پینل ڈسکشن میں حصہ لیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کمشنر سیکرٹری محکمہ اطلاعات آر ایلس واز کے ساتھ حکومت کی جانب سے اب تک کئے گئے اقدامات اور جموں و کشمیر میں فلم سازی اور فلمی سیاحت کو مزید فروغ دینے کیلئے منصوبہ بند اقدامات پر روشنی ڈالی ۔
چیف سیکرٹری مسٹر اتل ڈولو نے اپنے خطاب میں کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ تخلیقی دنیا کی طرف قدرتی رحجان رکھتے ہیں اور انہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں خطے کی فلمی برادری سے گہرے تعلق کو یاد کیا ، جب اس کے مناظر اور مقامات فلم انڈسٹری سے وسیع پیمانے پر جڑے ہوئے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایف ایف جے کے کو ان تعلقات کو دوبارہ زندہ کرنے اور خطے کے نوجوانوں کی تخلیقی توانائیوں کو فلم سازی اور اس سے متعلقہ پیشوں کی طرف موڑنے کے پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا ہے ۔ چیف سیکرٹری نے کہا ” لوگوں کے اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے کوشش کرنا ضروری ہے “ اور سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے مشہور الفاظ یاد کئے کہ ” خواب وہ ہوتے ہیں جو آپ کو سونے نہیں دیتے “۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول جموں و کشمیر کی فلم انڈسٹری کو پیش کئے جانے والے امکانات اور صلاحیتوں پر غور و فکر کرنے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ فیسٹیول کے بعد اس رفتار کو آگے بڑھانے کیلئے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنے کا ایک مثالی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے ۔
مسٹر ڈولو نے انسانی وسائل کی پرورش کی اہمیت پر مزید زور دیا اور کہا کہ حکومت طلبہ کو فلم سازی کے مختلف پہلوو¿ں میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے معروف قومی اداروں میں اسکالر شپ فراہم کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے ، نیز جموں و کشمیر میں خصوصی کورسز اور تربیت فراہم کرنے کیلئے ایسے اداروں کے ساتھ شراکت داری کو بھی آسان بنانے کا کام کر رہی ہے ۔







