سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آج وزیر برائے سکولی تعلیم سکینہ اِیتو کی پیش کردہ ایک قرارداد زبانی ووٹ سے منظورکی جس میں 31 اکتوبر 2019 سے پہلے تعینات ہوئے اساتذہ کو’ ٹیچر ایلیجی بیلٹی ٹیسٹ (ٹی اِی ٹی) ‘میں شرکت سے مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ قرارداد دو روزہ بحث کے بعد منظورکی گئی جس کے دوران اراکین نے اس مسئلے کے مختلف پہلوو¿ں پر غور و خوض کیا اور مقررہ تاریخ سے قبل تعینات اساتذہ کے خدشات کو اُجاگر کیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے،”یہ ایوان متفقہ طور پر مرکزی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم کے حق کے قانون (آر ٹی اِی ایکٹ)، 2009 کی دفعہ 23 میں ضروری قانونی ترمیم کرے تاکہ 31 اکتوبر 2019 سے پہلے تعینات تمام اساتذہ کو ٹی اِی ٹی میں شرکت سے مستثنیٰ کیا جا سکے۔“قرارداد میں مرکزی حکومت پر مزید زور دیا گیا ہے کہ وہ تمام ضروری قانونی اَقدامات کرے اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی اِی) کے ذریعے ٹی اِی ٹی کی شرط سے استثنیٰ دینے کا مطلوبہ نوٹیفکیشن جاری کرے۔







