سری نگر24 اکتوبر،:: جموںو کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ جموںو کشمیر میں تقریباً ملی ٹنسی کا صفایا ہوا ہے اور سال رواں میں کل10ملی ٹینٹ بنے ہیں جن میں 6کو مارا گیا ہے اور چار زندہ ہے جن کو بھی مار دیا جائے گا۔تاہم ڈی جی پی نے ساتھ ہی کہا ہے کہ ہمیں کسی ملی ٹینٹ کے مارنے پر خوشی نہیں ملتی کیوں کہ وہ بھی کسی کے بچے ہوئے ہیں، انہوں نے اپیل کی ہے باقی بچے ملی ٹنٹ تشدد کا راستہ ترک کر کے قومی دائرے میں شامل ہوجائے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں کافی تبدیلی آئی ہے جس امن و امان کی صورت حال کے بہتری کہ وجہ سے شہر دیہات میں لوگ گھوم رہے ہیں بلا خوف اپنا معمول کا کام کج کر رہے ہیں ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس) کے مطابق منگل کے روز شمالی کشمیر کے ہندوارہ گاﺅں میں ایک تاریخی مندر پر حاضری دینے کے بعدمیڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران جموںو کشمیر میں کافی تبدیلی آئی ہے جس میں خاص کر ملی ٹنسی کے اعتبار سے یہاں تقریباً ملی ٹنسی کا خاتمہ ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں لوگ شہر و دیہات میں آزادانہ طور پر شام دیر گئے گھوم تے رہے ہیں یا اپنا کام کاج بلا خوف انجام دے رہیں ۔انہوں نے کہا یہاں مکمل ٹنسی تقریباً ختم ہوئی ہے اور کبھی ایک تو کبھی دوسرے علاقے میں گھومتے ہیں اور شمالی کشمیر میں ملی ٹنسی ختم ہو چکی ہے۔دلباغ سنگھ نے بتایا کہ سال رواں میں کل10نوجوانوں نے ملی ٹنسی کے صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں 6مارے گئے ہیں اور4زندہ ہے جن کو مار دیا جائے گاکیوںکہ ہم مارنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا گزشتہ سال110ملی ٹینٹ بنے ہیں اور امسال صرف دس بنے ہیں اوراگر یہ دس بھی نہ بنتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔پولیس سربراہ نے بتایا کہ میں یہ بھی ساتھ میں کہنا چاہتاہوں کہ ہمیں کسی ملی ٹینٹ کے مارنے پر خوشی نہیں ملتی ہے کیوں کہ وہ بھی کسی کے بچے ہوتے ہیں ۔انہوں نے سرگرام ملی ٹینٹوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بندوق چھوڑ کر تشددکا راستہ ترک کر کے قومی دائرے میں شامل ہو جائے۔ڈی جی پی نے بتایاشمالی کشمیر میں سرحد پرجو راہیں سال1990میں کھلی تھیں انہیں مکمل طور بند کرنا ہوگا۔انہوں نے سبھی تشدد کی راستوں کو مکمل طور بند کرنا ہوگا ۔اانہوں نے مزید کہا کشمیر میں جو نارکوٹیک کا جو جنگ چل رہا ہے اوراس میں بھی کپوارہ کے باڈر کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ باڈر کے لوگ جو اس کام میں ملوث ہے ان کے ساتھ اور زیادہ سختی کی جائے گی ۔








