ر جوابات
سری نگر:۸۲، اکتوبر: : جموں و کشمیر حکومت نے منگل کو انکشاف کیا ہے کہ مختلف سرکاری آسامیوں کیلئے درخواستیں دینے والے اُمیدواروں سے گزشتہ برس جاب ٹیسٹ فیس کے طور پر 31 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں ا۔حکومت نے واضح کیاکہ اس کے پاس ملازمت کے امتحان کی فیسوں کو ختم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔اس دوران حکومت نے کہاکہ ستمبر2025 تک مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر میں کل 3لاکھ61ہزار146 تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اورممبراسمبلی ہندوارہ سجادغنی لون کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کے وزیر انچارج(وزیراعلیٰ) نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کی جانب سے گزشتہ سال درخواست فیس کے طور پر مختلف سرکاری آسامیوں کیلئے درخواستیں دینے والے اُمیدواروں سے 31 کروڑ75لاکھ32ہزار400 روپے جمع کیے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ فی الحال جاب ٹیسٹ فیس ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی درخواست کی فیس کا مقصد امتحانات کے انعقاد میں ہونے والے انتظامی اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنا ہے۔انچارج وزیر نے کہاکہ ان میں اشتہارات، درخواستوں کی پروسیسنگ، امتحانی مواد کی پرنٹنگ، افرادی قوت کی تعیناتی، انفراسٹرکچر، اور بھرتی کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے درکار تکنیکی انتظامات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فیس کا ڈھانچہ معقول ہے اور ملک بھر میں مختلف سرکاری ریکروٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی فیس کے برابر ہے۔اس حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ میں، جو پہلے ٹویٹر تھا، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی پر حکومت پر تنقید کی۔انہوںنے پوسٹ میں لکھاکہ اپنے انتخابی منشور میں، نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں SSRB، JKPSC، اور دیگر اداروں جیسی بھرتی ایجنسیوں کے لئے درخواست کی فیس معاف کرنے کا وعدہ کیا۔انہوںنے کہاکہ میں نے یہ جاننے کےلئے ایک سوال پوچھا کہ آیا وہ انتخابی وعدہ پورا ہوا ہے۔سجادلون نے مزید کہا کہ جی اے ڈی کے وزیر انچارج ، جو گاندربل سے ممبراسمبلی اور وزیر اعلیٰ بھی ہیں، نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے سال اکتوبر میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 31 کروڑ روپے فیس کی مد میں جمع کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ31 کروڑ روپے بہت سے ٹوٹے ہوئے وعدوں میں سے ایک اور جھوٹ اور فریب کی پگڈنڈی کی عکاسی کرتا ہے۔سجاد لون نے کہاکہ براہ کرم، ایک بار کے لیے، کیا وہ یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹ بولا اور معافی مانگیں؟۔اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے کہا ہے کہ ستمبر 2025 تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کل 3لاکھ61ہزار146تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر ڈویڑن میں 2.08 لاکھ سے زیادہ اور جموں ڈویڑن میں1.52 لاکھ سے زیادہ تعلیم یافتہ بے روزگار رجسٹرڈ ہیں۔ایوان کے سامنے رکھے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سری نگر ضلع23,826 رجسٹرڈ بے روزگار نوجوانوں کےساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد اننت ناگ32,298، پلوامہ28.671، کٹھوعہ 26,798 اور کولگام ضلع میں21,446تعلیم یافتہ بے روزگاررجسٹرڈ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رجسٹریشن کی سب سے کم تعداد کشتواڑ (8.870 اور ریاسی 12,376 اضلاع سے ہوئی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں وکشمیرمیں کل تعلیم یافتہ رجسٹرڈ بے روزگاروں میں 2لاکھ33ہزار845 مرد اور ایک لاکھ27ہزار301 خواتین ہیں۔حکومت نے کہا کہ محکمہ روزگار، مشن یوتھ،مشن یووا کے تحت، 1.37 لاکھ انٹرپرینیورشپ یونٹس کے قیام کے ذریعے4.25 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جو جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں خود روزگار، اسٹارٹ اپس، اور ہنر مندی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح کے روزگار اور مشاورتی مراکز نوجوانوں کی مصروفیت، جدت طرازی اور معاش سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے کیریئر میلے اور روزگار میلے بھی منعقد کر رہے ہیں






