سری نگر/25فروری 2026ئ وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے آج سری نگر اور بڈگام اَضلاع میںزائد اَز 190 کروڑ روپے کے بنیاد ی ڈھانچے اور دریا کے تحفظ کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا جو شہری تبدیلی اور ماحولیاتی دیرپائی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ منصوبے پانچ حلقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور شہری خوبصورتی، دریائے جہلم کے آلودگی کے خاتمے اور دودھ گنگا کے لئے جدید سیوریج ٹریٹمنٹ انفراسٹرکچر پر مرکوز ہیںجو شہری سہولیات کو بہتر بنانے، ماحولیاتی لحاظ سے بڑھانے اور آبی ذخائر کی بحالی کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے رعناواری میںبابُ السلطان العارفین کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا جو کہ رعناواری چوک میں فنکارانہ خطاطی کے ساتھ شہر کا ایک تاریخی گیٹ وے ہے۔ یہ منصوبہ پی ڈبلیو ( آر اینڈ بی) کے ذریعے 130لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور تاریخی علاقے کی جمالیاتی اور ثقافتی شناخت کو اُجاگر کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ گیٹ وے نہ صرف علاقے کو خوبصورت بنائے گا بلکہ اس کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کو بھی نمایاں کرے گا۔
اُنہوں نے براری نمبل منور آباد میں ژونٹھ کول اور گاﺅکدل میں جہلم دریا کی آلودگی کم کرنے اور اس کے تحفظ کے لئے ایک بڑے ماحولیاتی منصوبے کی بنیاد بھی رکھا۔ یہ منصوبہ مکانات و شہر ترقیاتی محکمہ کے تحت یو اِی اِی ڈِی کے ذریعے 7090.68لاکھ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جس میں ایم ایل ڈِی 8سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) قائم کیا جائے گا تاکہ دریا میں غیرٹریٹمنٹ شدہ اخراج کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔
اِسی مقام پر وزیر اعلیٰ نے دودھ گنگا میں آلودگی پر قابو پانے کے لئے ایچ اینڈ یو ڈِی ڈی ( یو اِی اِی ڈِی) کے تحت سوریج ٹریٹمنٹ کے دو بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ آلوچی باغ سری نگر میں ایک 14 ایم ایل ڈِی ایس ٹی پی (5060.47لاکھ روپے )اور موچھو بڈگام میں ایک 6ایم ایل ڈِی ایس ٹی پی (6772.32 لاکھ روپے) جو چاڈورہ سے باغِ مہتاب تک خشک موسم کے پانی کے بہاﺅ کاٹریٹمنٹ کریں گے اورعلاقے میں سیوریج اور ماحولیاتی تحفظ کو مضبوط کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پانچ حلقوں میں تقریباً 200 کروڑ روپے کے منصوبے عام طور پر ایک بڑے عوامی پروگرام کا تقاضا کرتے، لیکن رمضان کے مقدس مہینے کو مدنظر رکھتے ہوئے پروگرام کو سادہ رکھا گیا۔اُنہوں نے کہاِ”اگر ہم یہ پروگرام کسی اور وقت منعقد کرتے تو عوامی شرکت بہت زیادہ ہوتی لیکن رمضان میں ہم لوگوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے تھے اور نہ ہی ایسے منصوبوں میں تاخیر کرنا چاہتے تھے جن کا عوام بے صبری سے اَنتظار کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نے مکانات و شہری ترقی محکمہ اور سری نگر میونسپل کارپوریشن پر دباو¿ کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نکاسی آب، سیوریج، سڑکیں، پارکس اور نئی کالونیوں کی ترقی ان کے مینڈیٹ میں آتی ہے۔







