شعبۂ اردو، کشمیر یونی ورسٹی میں مورخہ 16 جون 2026ء کو ایم اے سمسٹر چہارم کے طلبہ کے اعزاز میں ایک یادگار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں اساتذۂ کرام، طلبہ اور ریسرچ اسکالرز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا مقصد رخصت ہونے والے طلبہ کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنا تھا۔
تقریب میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس، لینگویجز اینڈ لٹریچر و صدر شعبۂ کشمیری پروفیسر اعجاز محمد شیخ، صدر شعبۂ اردو پروفیسر عرفان عالم، ڈاکٹر مشتاق حیدر، ڈاکٹر کوثر رسول، ڈاکٹر مشتاق صدیقی، ڈاکٹر راکیش کمار اور ڈاکٹر اویس احمد موجود تھے۔
پروگرام کا آغاز کشمیر یونی ورسٹی کے ترانے سے ہوا جسے طلبہ نے اپنے منفرد انداز میں پیش کرکے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔ اس کے بعد اردو زبان کی عظمت اور اس کی تہذیبی و ادبی اہمیت کو اجاگر کرنے والی نظم ’’ہماری پیاری زبان اردو‘‘ پیش کی گئی جس نے حاضرین کے دلوں میں اردو کے تئیں محبت کے جذبات کو تازہ کر دیا۔
تقریب کے ادبی و تفریحی پروگراموں میں اسکٹ ’’عقل غائب، تنقید غالب‘‘ کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ طنز و مزاح سے بھرپور اس پیش کش میں معاصر ادبی تنقید کے بعض رویّوں اور رجحانات کو نہایت دلچسپ انداز میں موضوع بنایا گیا۔ اسی طرح بیت بازی کے مقابلے نے طلبہ کی ادبی استعداد اور شعری ذوق کو نمایاں کیا۔
تقریب کی ایک منفرد اور جذباتی پیش کش ” شکوۂ طلبہ” اور ’” جوابِ شکوہ” تھی جس میں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان محبت، شفقت اور طالب علم اور استاد کے رشتے کی خوبصورت عکاسی کی گئی۔ اس کے علاوہ اساتذہ کے نام تحریر کیے گئے خطوط بعنوان” محبت نامے”نے اساتذہ کو مسکرانے پر بھی مجبور کیا اور جذبات کو انگیخت بھی کیا۔
ایم اے چہارم کے طلبہ نے اپنے تاثرات میں شعبۂ اردو میں گزرے ہوئے یادگار لمحات کو یاد کیا اور اپنے اساتذۂ کرام کی علمی رہنمائی، شفقت اور تربیت کو خراج تحسین پیش کیا۔
آخر میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر عرفان عالم نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے طلبہ کو زندگی کے نئے مرحلے میں داخل ہونے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے طلبہ کو مسلسل مطالعے، تخلیقی سرگرمیوں اور اخلاقی اقدار سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ جہاں بھی جائیں شعبۂ اردو اور کشمیر یونی ورسٹی کی علمی و تہذیبی روایات کے سفیر بن کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔

تقریب کے اختتام پر رخصت ہونے والے طلبہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ وہ مستقبل میں علم کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے اپنے شعبے اور دانش گاہ کا نام روشن کریں.





