سید اعجاز
گلمرگ//کشمیر نیوز سروس پبلیکیشنز گروپ نے جمعرات کو گلمرگ کے کنونشن سینٹر میں سالانہ میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں کشمیر اور جموں ڈویژن اور سری نگر شہر کے نامہ نگاروں، سینئر ایڈیٹرس اور ادارے سے وابستہ دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔ورکشاپ میں میڈیا کے بدلتے ہوئے ماحول اور پیشہ ورانہ صحافیوں کو درپیش چیلنجز، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاو¿ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ فیس بک پیجز اور گمنام نیوز ہینڈلز کی بڑھتی ہوئی تعدادجن میں سے کئی بغیر کسی ادارتی نظام کے کام کر رہے ہیںنے عوام کے لیے مصدقہ خبروں اور غیر مصدقہ دعووں کے درمیان فرق کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال نے پیشہ ورانہ خبر رساں اداروں پر درستگی اور ساکھ کو برقرار رکھنے کی اضافی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔شرکاءنے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں معلومات کی تصدیق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو اس وقت تک خبر نہیں سمجھا جانا چاہیے جب تک کہ ان کی باقاعدہ تصدیق نہ ہو جائے۔اس موقعے پر ایجنسی کے ساتھ منسلک جموں و کشمیر کے الگ الگ علاقوںبیرو چیف،نمائندوں،آن لائن عملے کے علاوہ سینئر ایڈیٹرس اور ایجنسی کے ساتھ وابستہ باقی صحافیوں نے شرکت کی ہے ۔ ایڈیٹر ان چیف محمد اسلم بٹ نے شرکاءکو یقین دلایا کہ ورکشاپ کے دوران اٹھائے گئے مسائل کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اسلم بھٹ نے کہا کہ نامہ نگار کا کام انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور خبر کی معیار کا انحصار بڑی حد تک اس معلومات کی درستگی پر ہوتا ہے جو رپورٹر فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘کے این ایس کے لیے ساکھ اور اعتبار ہمیشہ اولین ترجیح رہا ہے اور ادارے نے خبر کی اشاعت سے قبل حقائق کی تصدیق کرنے کے اصول کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ پہلے جائے وقوعہ پر کسی واقعے کے حقائق کا تعین کریں اور پھر متعلقہ حکام سے ان کا سرکاری موقف جاننے کے لیے رابطہ کریں۔محمد اسلم بٹ نے نامہ نگاروں اور ایڈیٹوریل ڈیسک کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ حقائق پر مبنی غلطیوں سے بچنے اور قارئین تک صرف تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔






