سری نگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آج ایک پرائیویٹ ممبرز بل مسترد کر دیا جس میں عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین پر اَپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اِداروں میں تعلیم دلانا لازمی قرار دینے کی تجویز تھی۔یہ بل رُکن اسمبلی شیخ خورشید احمد نے پیش کیا، کا عنوان ”عوامی شخصیات اور سرکاری ملازمین کے لئے اَپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اِداروں میں تعلیم دِلانا لازمی قرار دینے اور اس سے متعلقہ یا ضمنی معاملات کیلئے بل(ایل اے پرائیویٹ ممبرز بل نمبر 22 آف 2025)“تھا۔
وزیر برائے سکولی تعلیم سکینہ اِیتو نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرکاری سکولوں میں داخلے بڑھانے کے لئے پہلے ہی کئی اقدامات کر رہی ہے جہاں قابل اور محنتی اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں میٹنگیں بھی منعقد کئے گئے ہیں اور زور دیا کہ اس طرح کے اقدام کو جبر کے ذریعے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔






