سرینگر / /5مئی پہلگام واقعے کے بعد ہند و پاک کے مابین زبردست تناو بڑ گیا ہے وہی دوسری جانب جموںو کشمیر میں حد متارکہ پر مسلسل چند روز میں گیارویں بار شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس کا ہندوستانی فوج نے موثر جواب دیا۔سرحدی تناو کے بیچ یہاں سرحدی علاقوں میں رہائش پزیر آبادی کو جنگ بندی کے دوران راحت کے بعد پھر ایک بار خوف ودہشت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔کشمیر نیوز سروس( کے این ایس ) کے مطابق دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرکے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھی جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا وہاں موجود جوانوں نے موثر جواب دیا۔ایک فوجی ترجمان نے بتایا: ‘ 4 ور 5 مئی کی درمیانی رات کو پاکستانی فوج کی چوکیوں نے جموں و کشمیر میں کپوارہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، مینڈھر، نوشہرہ، سندربنی اور اکھنور کے بالمقابل علاقوں میں ایل او سی کے پار بلا اشتعال چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی’۔انہوں نے کہا کہ وہاں موجود جوانوں نے اس کا موثر و متناسب جواب دیا۔تاہم کسی جانب کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔یہ لگاتار گیارہوں بار ہے کہ جب پاکستانی فوج کی طرف سے جموں وکشمیر کے سرحدوں کو نشانہ بنا یا گیا جس سے سرحدی بستیوں میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان 29اپریل کو ہاٹ لائن پر بات چیت کے باوجود جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔خیال رہے جموںو کشمیر کے پہلگام سیاحتی مقامی میں22اپریل کو سیاح پر حملے جس میں 25سیاح اور مقامی شہری بھی مارا گیا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کمزور رشتے مزید خراب ہوئے ۔ اس حملے کے بعد ملک میں موجود پاکستانی شہریوں کو ملک سے نکلنے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی تھی جبکہ یہاں سرڈی پر تناو برابر جاری ہے اور سرحدی فائرنگ کی وجہ سے یہاں کے لوگ خاص طور پر پریشانیوں سے دوچار ہیں جموں کشمیر کی طرف سے کچھ علاقوں میںفصل بھی تیار ہیں ۔مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں اس وقت بے یقینی اور خوف کی کیفیت طاری ہے۔ ہر روز صبح و شام دور دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی ہیں اور کسی کو یہ یقین نہیں کہ اگلا گولہ کہاں گرے گا۔






