سری نگر:۷۱، مئی :: مرکزیحکومت دریائے چناب پر رنبیر نہر کی لمبائی میں اضافہ کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے تاکہ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جا سکے جو بھارت کو پہلگام حملے کے بعد سندھ آبی معاہدے کو منسوخ کرنے کے بعد ملے گا۔اسے پہلے سلال اور بغلیہار پن بجلی پروجیکٹوں کے ڈیموں سے پانی کے بہاﺅ کو روکنے کیلئے دونوں ڈیموں کے گیٹ بندکردینے کی مشق شروع کی گئی ہے اوراس پرعمل درآمد جاری ہے ۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق میڈیا رپورٹ میں ایک سینئر عہدیدار کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ اب تک، ہندوستان چناب کا محدود پانی استعمال کرتا رہا ہے، زیادہ تر آبپاشی کےلئے، لیکن اب سندھ طاس معاہدے کو التوا میں ڈالنے سے، توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے خاص طور پر بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں اس کے استعمال کو بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ایک اور اہلکار نے کہا کہ ہندوستان ان دریاو ¿ں بشمول چناب،جہلم اورسندھ پر تقریباً 3000 میگا واٹ کی پن بجلی پیدا کرنے کی اپنی موجودہ صلاحیت کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو پہلے پاکستان کے زیر استعمال تھے اور اس سلسلے میں ایک فزیبلٹی اسٹڈی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔حکام کے مطابق بڑے منصوبوں میں سے ایک رنبیر نہر کی لمبائی کو 120 کلومیٹر تک بڑھانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کےلئے وقت درکار ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز سے اس عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔مزید برآں، کٹھوعہ، راوی اور پارگوال نہروں پر بھی ڈیسلٹنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں، سندھ آبی معاہدہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کی تقسیم اور استعمال کو کنٹرول کرتا تھا۔لیکن ہندوستان نے پہلگام حملے کے بعد اس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد سے یہ برقرار رکھا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابل اعتبار اور اٹل طریقے سے ترک نہیں کرتا۔دریائی نظام سندھ پر مشتمل ہے ،مرکزی دریا اور اس کی معاون ندیاں۔ راوی، بیاس اور ستلج کو مجموعی طور پر مشرقی دریا کہا جاتا ہے جبکہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب کو مغربی دریا کہا جاتا ہے






