سید اعجاز
پلوامہ´//پلوامہ ہسپتال میں ایک خاتون کی موت مبینہ طور ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے ہونے کے الزام کے بعد ضلع مجسٹریٹ پلوامہ نے واقعے کے حوالے انکوئری کا حکم دیا اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔انہوں نے کمیٹی کو حقائق کا مکمل طور پتہ لگانے کے بعد پندرہ دنوں کے اندر اندر اپنا روپوٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ اگر واقعی کوئی لاپرواہی برتی گئی مناسب کارروائی جا سکے ۔ذرائع نے بتایا ضلع کے آرملہ پلوامہ نامہ گاﺅں سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون تیموسہ جان ہسپتال میں زیر علاج تھی جس دوران انہیں نازک حالت میں سرینگر منقتل کیا گیا اور لواحقین کا الزام تھا کہ خاتون پلوامہ ہسپتال میں موجود طبی عملے کی لاپروہی سے فوت ہوئی ہے اوررشتہ داروں واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرکے احتجاج کیا ۔اس دوران ضلع مجسٹریٹ پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم نے متوفی تیموسہ جان کے لواحقین کی طرف سے طبی غفلت کے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے اس المناک واقعہ کے بارے میں حقائق اور حالات کا پتہ لگانے کے لئے اتوار کو دوران شب ہے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کیس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ انتظامی، پولیس اور میڈیکل افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انکوائری کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ریونیو (ایڈیل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) پلوامہ کریں گے۔ کمیٹی کے ممبران میں تحصیلدار لیتر، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہیڈکوارٹر پلوامہ، ایک کنسلٹنٹ سرجن، کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ اور ایک اینستھیشیالوجسٹ بطور ماہر ممبران شامل ہیں۔ کمیٹی ڈیوٹی کی کے دوران خلاف ورزی اور دیکھ بھال کی کمی کے الزامات کی جانچ کرے گی۔اس دوران کمیٹی کو پندرہ دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کرنا ہوگا۔





