سید اعجاز
ترال//جنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں گزشتہ چند سال کے دوران بھیڑوں کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے ۔اس دوران سب ضلع کے متعدد علاقوں میں جہان نوجوانوں نے مختلف اسکیموں کی مدد سے یونٹ کھولے ہیں تاہم اکثر آبادی کے پاس ان کا اپنا مال مویشی ہے ۔کسانوں نے بتایا جب جب انہیں مویشی بیمار ہوتے ہیں تو انہیں علاج معالجے کے لئے دور دروز علاقوں کا رخ کرنا پڑ تا ہے یہاں کسی ماہر کو گھر بلانا پڑتا ہے جو بعض اوقات مویشی کے لئے موت کا باعث بن جاتا ہے ۔سب ضلع کے ناگہ بل،برن پرتھری ،ژن پارن،کنگلہ لوروہ ،پیر تکیہ،باگندر زاری ہاڑ،دودھ مرگ،کے ساتھ ساتھ دیگر درجنوں علاقوں میں بھیڑ بکریوں کے علاج معالجے کے لئے کوئی بھی سنٹر قائم نہیں کیا گیا ہے ۔کسانوں نے بتایا وسیع علاقے میں دور دروز علاقوں کے چند ملازمین کو تعینات کیا گیا ہے جن پر بڑے علاقے کی آبادی کا ہمیشہ دبا رہتا ہے ۔کسانوں نے بتایا ہم موجودہ عملے کے مشکور ہیں لیکن اگر یہاں کم سے کم ایک ایک سنٹر قائم کیا جاتا تو لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔مزکورہ علاقوں کے لوگوں نے علاقے میں بھیڑ بکریوں کے علاج معالجے کے لئے ایک سنٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔







