سری نگر/وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سکولی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سماجی بہبود سکینہ اِیتو نے آج جموں و کشمیر بھر میں منشیات کی بدعت سے نمٹنے کے لئے اپنی نوعیت کا پہلی شراکت داروں کی میٹنگ منعقد کی۔یہ اجلاس شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقد ہوئی جس میں کمشنر سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود ، سیکرٹری صحت و طبی تعلیم، ڈی آئی جی پولیس کرائم برانچ، ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں ،کشمیر، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، ڈائریکٹر کالجز، ڈگری کالجوں کے پرنسپل ، چیف ایجوکیشن اَفسران، زونل ایجوکیشن اَفسران ، سکول سربراہان، این جی اوز کے نمائندے، ڈاکٹروں، ماہرین، سول سوسائٹی اراکین اور دیگر متعلقہ افراد نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی۔دوران میٹنگ شرکا¿ نے بچوں اور نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں تیزی سے اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے بالخصوص سکولوں، کالجوں اور دیگر حساس علاقوں کے آس پاس نشہ آور اور ذہن پر اثر انداز ہونے والی اشیا¿ کی آسان دستیابی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا گیا۔نصاب میں تربیتی ماڈیولز شامل کرنے، ادارہ جاتی سطح پر مستقل ڈھانچے قائم کرنے اور سائنسی بنیادوں پر بیداری مہمات چلانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔







