سرینگر////حلقہ انتخاب ترال کے کم سے کم چار بستیوں کی آبادی ان کے علاقوں میں ایک سال سے بجلی ٹرانسفارمر نصب کرنے کے منظر بیٹھے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی بستیوں میں آبادی بڑنے کے ساتھ ساتھ پرانے ٹرانسفارمر لوگوں کو بہتر انداز میں روشن نہیں کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ سردی کا موسم آنے کے ساتھ ہی انہیں آج سے بجلی سپلائی کے حوالے سے ڈر محسوس ہو رہا ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال سے منتظر بیٹھے ہیں تاہم ممبر اسمبلی نے ان کے بستیوں کے لئے فنڈس بھی واگزار کئے ہیں ۔ممبر اسمبلی ترال رفیق احمد نائیک نے لوگوں کے شکایات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے حلقہ انتخاب ترال کے کئی علاقوں کے لئے بجلی ٹرانسفاروں کو نصب کرنے کے لئے فنڈس واگزار کئے ہیں تاکہ ان کے حلقہ انتخاب کی چار بستیوں کو بلا خلل اور بہتر انداز میں فراہم کی جا سکے ۔انہوں نے بتایا جب فنڈس سرکار کی جانب سے سے انہیں فراہم کئے تو ہر علاقے کے لوگوں نے الگ الگ چیزوں کی تعمیر بتایا دیا ہے تاہم حلقہ انتخاب کے4بستیوں کے لوگوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں نئے یا اپگریڈ والے ٹرنسفارمر فراہم کی جائے انہوں نے بتایا اس حوالے سے فنڈس بھی واگزرا کئے گئے ہیں ۔ممبر اسمبلی نے بتایا انہیں محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا ”کہ ان بستیوں میں کوئی بھی بجلی ٹرانسفارمر نصب نہیں ہوگا جہاںکے کچھ صارفین کو فیس کی موٹی رقم بقایا ہے تاہم ایم ایل کو بتایا گیا ہے کہ وہ ترسیلی لائن اور کھمبے فراہم کر سکتے ہیں ۔ ممبر اسمبلی نے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر چند گھرانوںنے فیس ادا نہیں کر رہے ہیں تو اسکی سزا پوری بستی کو نہیں دیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ محکمے کے گائیڈ لائنز ہیں ۔انہوں نے بتایا ہم وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو دیکھیں کیا یہ صرف ترال کے ایل ایم اے کے ساتھ ہی ہے یا سب کے ساتھ ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو دیکھ لیں ۔تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔






