
سید اعجاز
سرینگر//ساکھشر بھارت مشن (ایس بی ایم )سے وابستہ ملازمین نے سرکار مطالبہ کیا ہے کہ11مئی کو منعقد ہونے والی کابینہ میٹنگ میں سکیم سے وابستہ3ہزار سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین کے لئے جانب پالیسی اور گزشتہ کئی سال کے واجب ادا رقومات کو واگزار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔پریس کلب سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنے کے دوران ایسو سی ایشن کے صدر نے بتایا 25ستمبر2011کو ہمیںمحکمے میں تعینات کیا گیا ہے اور14سال7مہینے12دن گزر جانے کے باجودتمام دروازوں پر ہم نے دستک دی جبکہ موجودہ وزیر اعلی ٰ اور وزیر تعلیم کو بھی اپنی داستان سنائی لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔انہوں نے بتایا ہم وزیر اعلیٰ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ2014میں ہم سے کہا تھا کہ آپ جنون امید وار ہیں کیوںکہ ایس بی ایم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں ہم انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ آج آپ کی سرکار ہے ہمارا مسئلہ بھی حل کیا جائے۔ جمعرات کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے زمہداروں نے بتایا پورے ملک میں سکیم سال2009میں شروع ہوئی اور جموںو کشمیر میں یہ سکیم سال2011میں شروع ہے جس دوران سرکار نے ہر پنچائیت سے ایک مرد اور ایک خاتون کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیا ہے ۔انہوں نے بتایا 2011سے2018تک انہوں محکمے میں کام کیا ہے اوراپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ انہیں جس طرح بتایا گیا ہے ہر محکمے کو اپنا تعاون پیش کیا، سکولوں میں ،الیکشن ڈیوٹی ہم سے لی گئی وغیرہ ۔انہوں نے بتایا سرکار نے اس وقت ہم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم جاب پالیسی بنا رہے ہیں تاہم بعد میں سرکار گر جانے کی وجہ سے اس وقت ایسا ممکن نہیں ہوا ۔انہوں نے بتایا14سال سے ہم ملسل کوششوں میںمصروف ہیں اور انتظار کر رہے ہیں سرکارکوئی نہ کوئی پالیسی بنائے گا لیکن تا حال ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔مزکورہ لوگوں نے پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ جس وقت ہمیں تعینات کیا گیاہم نجی سیکٹر سے نوکری چھوڑ کر آئے کہ ہمیں سرکاری نوکری مل گئی ہے جبکہ متعدد لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاںایک ملازم کے طور ہوئی اور جب بعد میں سرکار نے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور نا ہی کوئی پالیسی مرتب کی تو کئی لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ۔انہوں نے بتاٍیا11مئی کو کابینہ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے ہماری سرکار خاص کر وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اور وزیر تعلیم سے مودبانہ اپیل ہے کہ وہ اس بارے میں ہم3000ہزار سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں بات کریں ۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بی ایڈ کے ساتھ ساتھ ڈگری ہولڈرس ہیں ہم نہیں چاہتے ہیںکہ ہم سڑکوں پر آئے انہوں نے تاہم کہا اگر سرکار کی جانب سے کوئی قد نہیں اٹھایا گیا تو ہمیں بھی احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑےگا، انہوں نے تمام واجب الاس رقومات فوری واگزار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔







