تحریر:عروج جہاں ترال پائین
اردو زبان برصغیر کی نہایت شیریں، مہذب اور باوقار زبان ہے جو صدیوں کی تہذیبی روایات کی امین رہی ہے۔ یہ زبان صرف اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، ہماری ثقافت اور ہمارے علمی و ادبی سرمایہ کی محافظ بھی ہے۔ اگر ہم اردو زبان کے ماضی اور حال کا موازنہ کریں تو ایک واضح فرق محسوس ہوتا ہے جو توجہ کا طالب ہے۔
ماضی میں اردو زبان کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ تعلیمی اداروں میں اس کی تدریس پر خاص توجہ دی جاتی تھی اور طلبہ بھی شوق و دلچسپی کے ساتھ اسے سیکھتے تھے۔ اساتذہ کرام زبان کی درست ادائیگی، صحیح املا اور شستہ اندازِ تحریر پر زور دیتے تھے۔ گھریلو ماحول میں بھی بچوں کی اصلاح کی جاتی تھی اور انہیں باادب گفتگو سکھائی جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ طلبہ کی زبان میں روانی، شائستگی اور پختگی پائی جاتی تھی۔
لیکن موجودہ دور میں صورتِ حال قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ آج کے زمانے میں اردو زبان کو وہ مقام حاصل نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ خصوصاً بڑے بڑے نجی تعلیمی اداروں میں انگریزی زبان پر اس قدر زور دیا جاتا ہے کہ اردو پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ نتیجتاً طلبہ کی ایک بڑی تعداد اردو پڑھنے اور لکھنے میں کمزور نظر آتی ہے۔ بعض طلبہ تو سادہ جملے بھی درست طریقے سے تحریر نہیں کر پاتے، جو کہ تشویش کا باعث ہے۔
یہ امر اپنی جگہ درست ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے اور اس کا سیکھنا ضروری ہے، لیکن اپنی مادری زبان کو نظر انداز کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ جو قوم اپنی زبان سے دور ہو جاتی ہے، وہ اپنی تہذیب اور روایات سے بھی آہستہ آہستہ محروم ہو جاتی ہے۔ اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اردو زبان کی ترویج پر توجہ دیں اور نئی نسل میں اس کی محبت پیدا کریں۔
اگر ہم نے بروقت توجہ نہ دی تو وہ دن دور نہیں جب ہماری نئی نسل اردو کو صرف ایک مضمون سمجھ کر پڑھ لے گی، مگر اس کی روح اور اس کا حسن محسوس نہیں کر سکے گی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اردو زبان کی قدر کریں اور اسے اپنی زندگی میں وہی مقام دیں جس کی یہ مستحق ہے۔









