
سری نگر11 اپریل (کے این ایس): جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 100 روزہ
منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کا باضابط طور آغاز کرتے ہوئے منشیات کے خاتمے کے لئے عوامی بیداری مہم پد یاترا کا انعقادکیا ہے ۔منعقدہ تقریب میںزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسپیکر عبدالرحیم راتھر، وزراء، بیوروکریٹس، پولیس افسران کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقعے پر منشیات کے اسمگلروں اور پیڈلرز کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے آج حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تمام افراد کے پاسپورٹ، آدھار کارڈ اور جائیداد ضبط کر لیں، اور ان کے بینک کھاتوں کو منجمد کر دیں۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس) کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے مولانا آزاد اسٹیڈیم میں ‘100 روزہ منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم’ کا آغاز کرنے کے بعد کہی، اور اس لعنت کے خلاف پیدل مارچ میں بھی شرکت کی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اسپیکر عبدالرحیم راتھر، وزراء، بیوروکریٹس، پولیس افسران اور ہزاروں دیگر لوگوں ک ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ایل جی نے جموں و کشمیر سے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے فیصلہ کن جنگ لڑنے کا عزم کیا۔معاشرے کو تباہ کرنے والوں کو قانون کی پوری اور سخت طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہمارا پڑوسی ہماری برادریوں کو زہر آلود کرنے اور ہماری قوم کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کے لیے سرحد پار اسمگلنگ کا استعمال کر رہا ہے۔

ہر افسر کا ایک فرض ہے کہ وہ اسے ہر قیمت پر روکے۔”اس موقعے پرایل جی منوج سنہا نے کہا”منشیات کے اسمگلروں کی جائیداد ضبط کر لی جائے گی، اور سرغنہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہیں جلد سزا دی جائے گی۔ انتظامیہ ملوث افراد کی تمام جائیداد ضبط کرے گی، ان کے لائسنس، پاسپورٹ اور آدھار کارڈ منسوخ کر دے گی ساتھ ہی ان کے بینک اکاو¿نٹس کو منجمد کر دے گی۔ منشیات کے اسمگلروں کے خلاف یہ سخت کارروائی آنے والی نسلوں تک یاد رکھی جائے گی،”۔ہم نے منشیات فروشوں کے خلاف نیا ایس او پی جاری کیا ہے۔ اس ایس او پی کے تحت ہم نے منشیات کے اسمگلروں کے پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، آدھار نمبر اور اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اگر وہ مفرور ہیں تو فوری طور پر ’ل±ک آو¿ٹ سرکلر‘ جاری کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ضبط کیا جائے گا، بینک کھاتوں کو منجمد کیا جائے گا، اور مالی تحقیقات شروع کی جائیں گی۔یہ بتاتے ہوئے کہ مہم کے لیے اگلے تین مہینے بہت اہم ہیں، منوج سنہا نے منشیات سے پاک جموں کشمیر کے عزم کو پورا کرنے کے لیے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ہر کونے تک پہنچنے پر زور دیا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، "ان 100 دنوں کے دوران، مہم چھ واضح مراحل میں آگے بڑھے گی، جس میں بیداری مہم، نوجوانوں پر مرکوز پروگرام، کمیونٹی کی شرکت، سخت کارروائی، بحالی اور تشخیص شامل ہیں۔ ہم جموں و کشمیر کو منشیات کے استعمال سے پاک کرنے کے لیے ‘پوری حکومت’ کے نقطہ نظر کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "منشیات کی لعنت کو محض گرافکس، اعداد و شمار اور فیصد کی عینک سے نہیں دیکھا جائے گا۔ ہمارا نقطہ نظر انسانی ہوگا۔ ہم کسی خاندان، نوجوان یا خواب کو نشے کی کھائی میں نہیں جانے دیں گے۔ خاندان اور والدین کو بہت سی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ہر کیس کی اپنی المناک کہانی ہوتی ہے، انتظامیہ کسی خاندان کو اس ٹریپ میں نہیں آنے دے گی۔”انہوں نے اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی مہم چلانے پر زور دیا، یہ بتاتے ہوئے کہ منشیات کا مسئلہ ایک ایسا بحران ہے جس میں سب کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے اسے جموں و کشمیر کا سب سے سنگین چیلنج قرار دیا، جس سے نمٹنے اور اس پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ پوری طرح پرعزم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سینئر افسران کو ہدایت دی کہ وہ شکایات پر فوری کارروائی کریں اور پنچایتوں، محلہ کمیٹیوں، چوکیداروں، لمبرداروں اور وارڈ مانیٹرنگ کمیٹیوں کی مدد سے زمینی سطح پر انٹیلی جنس کو مضبوط کریں تاکہ ہر مجرم کی نشاندہی کی جا سکے اور اسے سزا دی جا سک









