سرینگر۲ جون ۶۲۰۲ءجموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجز کی طرف سے آکاشوانی سرینگر کے آڈیٹوریم میں ممتاز شاعر، ادیب، مترجم، محقق، نقاد اور براڈکاسٹر ڈاکٹر ستیش ومل کے اعزاز میں ” ایک ملاقات“ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت پدم شری اعزاز یافتہ ادیب اور دانشور پروفیسر شفیع شوق نے کی، جبکہ ڈائریکٹر پرسار بھارتی ہیڈ آف آکاشوانی سرینگر شری گُربندر سنگھ مہمانِ خصوصی کی حیثےت سے ایوان میں تشریف فرما تھے۔ ان کے ہمراہ ایڈیشنل سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیم، غلام نبی حلیم، ڈاکٹر شتیش ومل اور اکیڈیمی شعبہ انگریزی کے ایڈیٹر ڈاکٹر عابد احمدبھی ایوان میں موجود تھے۔ اس موقعے پر معروف اسکالر اور محقق غلام نبی حلیم نے ڈاکٹرستیش ومل کی زندگی، ادبی سفر، تحقیقی خدمات ، تنقیدی بصیرت اور ادبی کارناموں پر ایک جامع اور تفصیلی مقالہ پیش کیا۔ تقریب کے آغاز میں ایڈیشنل سیکریٹری عدیل سلیم نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈیمی کا مقصد جموں و کشمیر کی ممتاز ادبی ، ثقافتی اور علمی شخصےات کی خدمات کو اجاگر کرنا اور نئی نسل کو انکے کام اور فکر سے روشناس کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” ملاقات“ جیسی تقریبات ادیب اور قاری کے درمیان ایک موثر رابطے کا ذریعہ بنتی ہیں اور ادب و ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔تقریب میں وادی کے معروف گلوکار منیر احمد میر نے کلامِ ستیش ومل پیش کرکے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا اور حاضرین سے داد و تحسین حاصل کی۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ستیش ومل نے کلچرل اکیڈیمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادب انکی زندگی کا سب سے اہم حوالہ رہا ہے اور انہوں نے ہمیشہ انسان دوستی، محبت اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر ، نشریاتی تجربات اور مختلف زبانوں نے ادیبوں سے وابستہ یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تخلیقی عمل مسلسل سیکھنے اور خود احتسابی کا نام ہے۔ اس دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے گُربندر سنگھ نے کہا کہ ااکاشوانی اور ڈاکٹر ستیش ومل کا رشتہ کئی سالوں پر محیط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ستیش ومل نے بطور براڈکاسٹر اور ادیب دونوں حیثیتوں سے عوامی شعور کی آبیاری کی ہے۔ تقریب کے صاحب صدر اور پدم شری شری اعزاز یافتہ پروفیسر شفیع شوق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ستیش ومل کشمیرکی ادبی دنیا کا ایک معتبر نام ہیں، جنہوں نے شاعری، تنقید، ترجمہ اور نشرےات کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستیش ومل کی تخلیقات انسانی اقدار، تہذیبی شعور اور عصری حسےت کی عکاس ہیں اور نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ کا درجہ رکھتی ہیں۔تقریب کے دوران ایک دلچسپ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی جس میں حاضرین نے ڈاکٹر ستیش ومل سے ان کی زندگی، ادبی سفر، تخلیقی تجربات اور نشرےاتی خدمات کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے۔ ڈاکٹر ستیش ومل نے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ابتدائی ادبی سفر، شاعری اور ترجمہ نگاری کی جانب رجحان، آکاشوانی سے وابستگی اور مختلف ادبی شخصےات کے ساتھ اپنے تجربات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوان قلمکاروں کو مطالعے کی عادت اپنانے اور ادب کے ذریعے انسانی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کی۔تقریب کے اختتام پر ایڈیٹر انگریزی ڈاکٹر عابد احمد نے مہمانوں، مقررین، ادبائ، شعرائ، صحافیوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈیمی مستقبل میں بھی ایسی تقاریب کا انعقاد جاری رکھے گی۔ تقریب میں ادبائ، شعرائ، اسکالر، طلبا و طالبات اور ادب سے شغف رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔






