سید اعجاز
ترال//ترال کے بوچھو نامی گاﺅںمیں گزشتہ روز کنواں دھنس جانے اور اچانک الگ قسم کا پانی باہر آنے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے بعد پیر کے روز ماہرین کی ایک خصوصی ٹیم نے علاقے کا دورہ کر ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔لوگوںکے مطابق محکمہ گراونڈ واٹر کی جانب سے لوگوں کو پانی فراہم کرنے کی غرض سے ایک کنواں کھودا گیا تاہم ٹسٹ میں پانی ناقابل استعمال ثابت ہوا۔انہوں نے بتایا محکمے نے کنویں کو واپس بند کر کے چھوڈ دیا ۔گاﺅں میں 4روز قبل اس وقت لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جب یہاں کنواں اندر سے ہی دھنس گیا اور پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے ۔اس کنویں کے آس پاس رہائش پزیر لوگوں نے بتایا دوران شب ایک زور دار دآواز آئی اور جب صبح لوگ نیند سے جاگے انہوں نے کنویں میں پانی کی سطح میں اضافہ دیکھا۔انہوں نے بتایا پہلے ہی روز سے محکمہ نے کنویں کو واپس بند کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اب تک400سو سے زیادہ گاڑیاں پتھر اس کنویں میںڈالے گئے ہیں اس کے باجوود بھی کنویں کی گہرائی اورپانی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے ۔ادھر اتوار کے روز معاملے کی حساسیت کو دیکھ کر ڈپٹی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم ۔ممبر اسمبلی ترال ،رفیق احمد نائیک،اے ڈی سی ترال ساجد یحیٰ نقاش،اور ماہرین کی ڈیم اور متعلقہ محکموں کے افسران کے ہمراہ علاقے کا دورہ کر کے مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت کی ۔ڈی سی نے بتایاکنویں کو بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بعد میں باقی حالات کا جائزہ لیاجائے گا ۔ انہوں نے بتایا پانی کنٹرول ہوا فلحال باقی چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ۔ اس دوران پیر کے روز ماہرین کی ایک ٹیم نے علاقے کا دورہ کر کے تمام چیزوں کا باریک بینی بشمول پانی کے نمونے بھی حاصل کئے ہیں ۔کیوںکہ پانی کا رنگ بلکل مختلف ہے ۔اس دوران کنویں کے مقام پر ڈیوٹی پر مامور محکمہ کے جونئیر انجینئر نے بتایا کہ آج بعد دو پہر تک200سے زیادہ پتھروں سے بھرے ٹپر جبکہ اسے قبل درجنوں ٹریکٹر پتھروں کو بھی اس میں ڈالا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا اب پانی میں کمی آرہی ہے جبکہ کنویں کو بند کرنے کے لئے محکمہ کوششوں میں مصروف ہے ۔







