وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج یہاں شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ خصوصی کیش ایوارڈ تقریب جموں و کشمیر کے 580 نمایاں کھلاڑیوں اور بین الاقوامی سطح کے ایتھلیٹس کوان کی کھیلوں کے میدان میں بہترین کارکردگی کے اعتراف میں 2.71 کروڑ روپے کے نقد انعامات سے نوازا ۔یہ نقد انعامات مالی برس 2023-24 اور 2024-25 سے متعلق ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ذاتی طور پر 22 کھلاڑیوں کو انعامات پیش کئے جبکہ دیگر مستفیدین کوانعامات ڈائریکٹ بنیفٹ ٹرانسفر(ڈِی بی ٹی) کے ذریعے ان کے بینک اکاﺅنٹس میں منتقل کئے گئے۔اِس موقعہ پروزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام ایوارڈ یافتگان کو مُبارک باد دِی اور کہا کہ یہ نقد انعامات جموں و کشمیر میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کو مزیدتقویت اور حوصلہ افزائی فراہم کرنے کے سلسلے میں حکومت کی کوششوں کا آغاز ہیںاُنہوںنے کہا ،”میں دل کی گہرائیوں سے تمام انعام یافتگان کومُبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ آپ کی محنت کا نتیجہ ہے۔“اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھلاڑی مناسب سہولیات، کوچنگ، سازوسامان اور تربیتی مواقع فراہم کئے جانے پر بہتر نتائج دے سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے نوجوان کھلاڑیوں کی معاونت میں والدین اورکنبوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ کھلاڑیوں کو کوچنگ، تربیت، سازوسامان اور سفر کے لئے مالی دباو¿ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعلیٰ نے کہا،”ہمیں اس میں بتدریج اضافہ بھی کرنا چاہیے تاکہ ہمارے کھلاڑیوں کو کوچنگ، تربیت، سامان، سفر وغیرہ پر خرچ کرنے کی فکر نہ ہو۔ ہمیں آپ کے کنبوں اور والدین پر بہت زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔“
اُنہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں موجود خامیوں کو دُور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کو بنیادی سطح پر کھیلوں کی سہولیات میں نمایاں بہتری لانی ہوگی۔ اُنہوں نے مصنوعی ٹریکس، معیاری کھیل کے میدانوں، انڈور سہولیات اور دیگر تربیتی بنیادی ڈھانچے کی کمی کی نشاندہی کی بالخصوص پہاڑی اور سرد علاقوں میں جہاں خراب موسمی حالات کی وجہ سے کئی ماہ تک بیرونی تربیت محدود رہتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کی بلندی ایک قدرتی فائدہ ہے جسے کھلاڑیوں کے لیے اعلیٰ معیار کے تربیتی مراکز قائم کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اُنہوں نے کہا، ©”ہمیں اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ ہمیں اعلیٰ معیار کے تربیتی مراکز قائم کرکے اس موقع کو استعمال کرنا ہوگا۔ اور ہمیں مختلف کھیلوں پر بھی توجہ دینی ہوگی۔“






