جموں/20 نومبر2024ئوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور جموں و کشمیر کی معیشت کو بہتر بنانے میں زراعت کے اہم کردار پر زور دیا ہے۔اُنہوں نے شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچر ل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ایس کے یو اے ایس ٹی) جموں میں چار روزہ قومی زرعی سمٹ اور کسان میلے۔ 2024 کا اِفتتاح کیا اور خطاب کیا۔
وزیر اعلیٰ نے موسمیاتی تبدیلی کی ضرور ت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ،” موسمیاتی تبدیلی ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس سے نمٹنے اور ہمارے کسانوں کی مدد کرنے کی ذمہ داری سکاسٹ کشمیر اور سکاسٹ جموں پر عائد ہوتی ہے۔ ہم اب صرف بارش اور برفباری پر انحصار نہیں کر سکتے کیوں کہ آب و ہوا کے پیٹرن تیزی سے تبدیل ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے بچپن میں برفباری دسمبر میں ہوتی تھی۔ اَب یہ فروری میں ہوتی ہے۔ ہمارا اوسط درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے۔ اس کے مطابق اپنانے کے لئے ہمیں جدید زرعی طریقوں کو فروغ دینے، نئی تکنیکوں اورٹیکنالوجیوں کو متعارف کرنے اور کسانوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔“اُنہوں نے حالیہ برسوں میں سکاسٹ جموں کی پیش رفت کی ستائش کرتے ہوئے کہا ،”میں نے سکاسٹ جموں کا دورہ کر کے خوشی محسوسی کی ۔ میرے گزشتہ دورے کے بعد سے یونیورسٹی نے قابلِ ذِکر پیش رفت کی ہے جس کے لئے میں وائس چانسلر اور ان کی پوری ٹیم کو مُبارک باد پیش کرتا ہوں۔“
وزیر اعلیٰ نے جموں وکشمیر کی ترقی کے بارے میں بات چیت میں زراعت کو نظر انداز کرنے پر تشویش کا اِظہار کیا۔
اُنہوں نے کہا ،”جموں و کشمیر میں، ہمیں ہر کونے میں کسان ملتے ہیں، پھر بھی جب ہم ترقی کی بات کرتے ہیں، تو ہم کار خانوں ، سیاحت اور مذہبی مقامات پر یاتریوں کے لئے سہولیات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کسانوں اور اس سے منسلک شعبوں کی شراکت پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی ہے ۔“







