سرینگر / وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اتوار کو جموں کے سرکاری میڈیکل کالج اسپتال میں کشتوارڑ کے بادل پھٹنے سے زخمی زیر علاج کچھ متاثرین سے ملاقات کی ۔اس دوران انہوںنے د کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے ایک دور افتادہ گاو¿ں چسوتی میں حالیہ بادل پھٹنے سے بہت فکر مند ہیں۔اس دورران وہ یہاں خراب موسمی صورتحال کی وجہ سے کشتواڑ کا دورہ نہیں کر سکے تاہم انہوں نے بعد میں یہاں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سے یہاں کام کاج اور دیگر قسم کی سہولیات کا جائزہ لیا ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق زخمیوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بادل پھٹنے سے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کا ان کا منصوبہ خراب موسم اور راستے میں سڑک پر تازہ مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے پورا نہیں ہو سکا۔تاہم انہوں نے یہاں جموں کے راج بھون میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں کشتواڑ کے چسوتی علاقے کے تمام سہولیات کا جائزہ لیا ہے ۔وزیر دفاع کے ساتھ مرکزی وزیر اور ادھم پور کے ایم پی جتیندر سنگھ اور جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی تھے۔دہلی سے یہاں اترنے کے بعد وزیر دفاع وہاں زیر علاج 16 لوگوں سے ملنے کے لیے سیدھے اسپتال گئے۔ انہیں ڈاکٹروں کی ٹیم نے مریضوں کی حالت کے بارے میں بریفنگ دی۔14 اگست کو مچل ماتا مندر کے راستے میں آنے والے آخری موٹر ایبل گاو¿ں چسوتی میں بادل پھٹنے سے 65 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ تب سے لاپتہ ہونے والے بتیس افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔راج بھون کے لیے ہسپتال سے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا، "وزیراعظم بہت فکر مند ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ میں نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ (پتھرناکی) کی وجہ سے نہیں ہوسکا… اب ہم راج بھون جا رہے ہیں جہاں ہم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے (متاثرہ) لوگوں سے بات کریں گے۔”واقعے کے بعد اسپتال میں داخل ہونے والوں کی اچھی دیکھ بھال کرنے پر ڈاکٹروں کی تعریف کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ زخمی افراد اطمینان بخش طور پر صحت یاب ہو رہے ہیں۔









