جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے تحت لیفٹنٹ گورنر حتمی فیصلہ لینے کے مجاز
سری نگر :۳۲،ستمبر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر کابینہ نے منگل کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو سرینگر میں 13اکتوبر کو ایک ہفتے طویل اسمبلی اجلاس بلائے جانے کی سفارش کی، تاکہ سردیوں کے دوران دارالحکومت جموں منتقل ہونے سے قبل قانون ساز سرگرمیاں مکمل کی جاسکیں۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس سیول سیکریٹریٹ کی سرینگر ونگ میں منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعلیٰ سریندرکمار چودھری کے علاوہ چاروں وزراءبشمول سکینہ ایتو ،جاوید احمد ڈار ،جاویداحمدرانا اورستیش شرما نے شرکت کی جبکہ کابینہ کے اس اجلاس میں چیف سیکرٹری اتل ڈولو بھی موجودتھے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے13 اکتوبر سے 20 اکتوبر تک اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اجلاس28 اکتوبر سے پہلے ختم ہونا چاہیے، اسی لیے ایک ہفتے کا وقت تجویز کیا گیا ہے۔میڈیا نے پیر کو اطلاع دی تھی کہ کابینہ منگلکی صبح میٹنگ کرے گی جس میں جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ کیا جائے گا۔جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 کے مطابق، ایک سیشن کی آخری نشست اور دوسرے اجلاس کی پہلی نشست کے درمیان 6 ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 میں لکھاگیاہے کہ لیفٹیننٹ گورنر، وقتاً فوقتاً، قانون ساز اسمبلی کو ایسے وقت اور جگہ پر اجلاس کے لئے طلب کرے گا جو وہ مناسب سمجھے، لیکن ایک اجلاس میں اس کی آخری نشست اور اگلے اجلاس میں اس کی پہلی نشست کے لیے مقرر کردہ تاریخ کے درمیان 6 ماہ کا وقفہ نہیں ہوگا۔چونکہ پچھلے اسمبلی اجلاس کی آخری نشست 29 اپریل کو ہوئی تھی، اور اس اصول کے پیش نظر کہ سیشنوں کے درمیان6 ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں گزرنا چاہیے، اس لیے اگلا اجلاس 28 اکتوبر تک ہونا چاہیے۔یہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کا تیسرا قانون ساز اجلاس ہوگا۔ پہلا اجلاس نومبر2024 میں 4 روز تک جاری رہا تھا، جب کہ دوسرا اجلاس مارچ 2025میں جموں میں منعقد ہوا اور29 اپریل کو اختتام ہوا تھا۔ اس کے بعد پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد سرینگر میں ایک روزہ اجلاس بلایا گیا، جس میں اسمبلی نے واقعے کی مذمت کی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسمبلی اجلاس کی سفارش کے علاوہ کچھ دیگر انتظامی فیصلے بھی لئے گئے، جن میں رہائش اور ترقیاتی امور شامل ہیں۔








