سرینگر،28 اکتوبر (کے این ایس): جموںو کشمیرمیں گزشتہ 4سال کے دوران 2لاکھ سے زیادہ افراد کو کتوں نے کاٹا کھایا جن میں وادی کے اندر1.14لاکھ اور جموں میں98ہزار افراد شامل ہیں ،ان زخمی افراد میں مرد خواتین بزرگ اور بچے بھی شامل ہیں ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق
۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کو بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں 2022سے 2025کے درمیان کتوں کے کاٹنے کے 2لاکھ12ہزار986 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں سے کشمیر میں 1.14 لاکھ سے زیادہ اور جموں میں 98ہزارے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے۔یہ اعداد و شمار ایک دن بعد سامنے آئے ہیں جب سپریم کورٹ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جانوروں کی پیدائش پر قابو پانے (ABC) رولز، ۲۰۲۳ کے تحت اگست میں آوارہ کتوں کی نس بندی اور حفاظتی ٹیکہ جات کی تعمیل کرنے میں ناکامی پر سرزنش کی۔عدالت عظمیٰ نے کہاہے کہ کتوں کے بار بار حملوں سے بیرون ممالک میں ملک کی امیج خراب ہو رہی ہے۔عبدعمراللہ جو کہ ہاو¿سنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج ہیں نے کہا کہ علاقے میں نس بندی اور ویکسینیشن مہم کو تیز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینیمل برتھ کنٹرول رولز 2023 کے مطابق کل 49ہزارآوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کی گئی۔ان میں سے دارالحکومت سری نگر اور جموں شہروں کا احاطہ کرنے والی دو بڑی میونسپلٹیوں نے بالترتیب 27237اور 13730 کتوں کی نس بندی اور ٹیکے لگائے ہیں۔ لیکن کشمیر کے باقی شہری اداروں میں صرف 161 کتوں کو بانجھ کیا گیا اور جموں میں 7870کتوں کو بانجھ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سری نگر شہری ادارہ میں کل تین جانوروں کی پیدائش پر قابو پانے کے مراکز موجود ہیں جبکہ اسی طرح کے مراکز وادی کے نو اضلاع میں قائم کیے جائیں گے۔






