سری نگر/26فروری 2026ئوزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو کشمیر یونیورسٹی کے پرو چانسلر بھی ہیں، نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک جموں و کشمیر کی معیشت کوایک محدودنظرئیے سے دیکھا گیا لیکن 2026 کا جموں و کشمیر اِختراع اور شراکتی طرزِ حکمرانی کے مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کشمیر یونیورسٹی کے 21ویں کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے جس میں نائب صدرہند سی پی رادھاکرشنن مہمانِ خصوصی تھے۔ اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر و چانسلر منوج سِنہا، وزیر تعلیم سکینہ اِیتو، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، وائس چانسلرنیلوفر خان، یونیورسٹی کونسل کے اراکین، اَساتذہ اور فارغ التحصیل طلبا¿ موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں قانون ساز اسمبلی میں 2026-27 کا بجٹ پیش کیا جسے انہوں نے ’ مالیاتی کمپاس‘ قرار دیا۔اُنہوں نے کہا کہ بجٹ محض میزانیہ کا بیان نہیں بلکہ جموں و کشمیر کو جدید، ترقی پسند اور معاشی طور پر متحرک خطہ بنانے کا عزم ہے۔اُنہوں نے کہا،”ہماری معیشت کو طویل عرصے تک صرف سیاحت یا صرف زراعت تک محدود سمجھا گیا، مگر 2026 کا جموں و کشمیر انوویشن اور شراکتی حکمرانی کا مرکز بن رہا ہے۔“







