سید اعجاز
ترال//کلچرل تنظیم ”بزم ادب “ ترال کی جانب سے ٹاون ہال ترال میںایک تقریب منعقد ہوئی ہے جس میں علاقے سے تعلق رکھنے والے مختلف زبانوں کے شعراءاور ادابی شخصیات نے حصہ لیا ہے ۔اس تقریب میں تنظیم کے دو ممبران جن میں غلام نبی ہویداساکن ستورہ ترال کی تحریر کردہ کتاب ” نالہءصباح“اورنوجوان شاعر نذیر آثمساکن ترال کی تحریری کر دہ کتاب”دکھ چھہءبہارس“ کی ر سم رونمائی انجام دی گئی ہے اس دوران دونوں قلم کاروں کی کوششوں کو سراہا گیا ہے جنہوں ان بہترین کتابوں کو تحریر کیا ہے ۔غلام نبی ہویدا نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا وہ معروف صوفی شاعر رجب حامدکے بھانجے ہیں انہوں نے بتایا رجب حامد خود تحریر نہیں کر سکتے تھے تاہم غلام نبی تعلیم یافتہ تھے اور انہوں نے ہی ان کے تمام کلام کو قلم بند کیا تھا انہوں نے بتایا ان کی صحبت میں رہ کر انہیں صوفی شاعرانہ یا تصوف کی تحریک ملی ہے انہوں نے بتایا وہ کشمیری زبان کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی لکھ رہے ہیں ۔ خیال رہے رجب حامد نے متعدد کلام لکھے ہیں جن میں افسوس دنیاں انتہائی مقبول ہوا ہے ۔نذیر آثم نے بتایا کہ میں موجودہ دور کے حالات ،بزم اداب کے کچھ مرحوم شعراءجن میں غلام محمد حیا،ٹھاکر سنگھ زخمی۔مفتوح کی ذکر،غزل،نعتیہ ،نظم ،حمدیہ رُباعیات وغیرہ قابل ذکر ہے انہوں نے بتایا میری شاعری میں صوفیت نہیں ہے البہ موجودہ حالات کے بارے میں ہے ۔انہوں نے بتایا انہیں کتاب تحریر کرنے میں ان کی اہلیہ کی کافی مدد شامل ہے ۔تقریب میں معروف معالج،مصنف ڈاکٹر نثار احمد بٹ ترالی،عبد الحد مجاہد،محمد امین ونی ،عبد الغنی ملک،کے ساتھ ساتھ بزب اداب ترال کے متعدد شعراءاور قلم کاروں نے شرکت کی ہے ۔ تقریب کے دوسری نشت میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا ہے جس میں علاقے سے تعلق رکھنے والے تمام شعراءجن میں کچھ نوجوان شعراءبھی شامل تھے نے حصہ کیا۔






