سید اعجاز
ترال//ترال کے ماحچھہامہ نامی گاﺅں میں سینکڑوں کنال زرعی زمین کو پانی فراہم کرنے والی نہر متعلقہ محکمے کے ساتھ ساتھ محکمہ دہی ترقی اور باقی تعمیراتی محکموں کی جانب سے مسلسل نذر انداز کرنے کی وجہ سے انتہائی خستہ حال ہوئی ہے جس پر مقامی عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لئے باعث پریشانی بن گئی۔علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے نمائندے کو بتایا کہ جا مع مسجدماحچھہامہ سے ’ا نگریز ڈیر“ اور انگریز ڈیر سے” ڈانجی “نامی جگہ تک سینکڑوں کنال اراضی آبی اراضی تک پانی پہنچانے والی نہر انتہائی خستہ حال ہونے کے علاوہ سکڑ گئی ہے جس کی وجہ سے ندی کی چوڑائی انتہائی کم ہوئی ہے اور سنچائی کے موسم میں پوری اراضی کو پانی فراہم نہیں ہوتا ہے جو ضائع ہوتا ہے ۔لوگوں نے بتایادوسری جانب نہر کی پانی نے ناگہ بل ماحچھہامہ سڑک کو بھی کافی نقصان پہنچایا ہے ۔ جبکہ سڑک میں آج سے کئی دہائی قبل تعمیر کیا گیا کلوٹ بھی کے نیچے کوڑا کڑکٹ جمع ہونے کی وجہ سے پانی آگے نہیں نکل جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہر علاقے میں گلی کوچے،نہر اور آبای ذخائز تعمیر کئے گئے ہیں لیکن اس اہم نہر کو تعمیر نہیں کیا گیا ہے ۔ کسانوں نے بتایا ہم نے گرام سبھا میں مل سب لوگوں نے یک زبان ہو کر اس سڑک کو تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم ہر بار ان کے مطالبے کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔انہوں الزام لگایا کہ جہاں جہاں محکمے اور ٹھیکہ داروں کو جہاں کام آسان اور فائدہ زیادہ ملتا ہے وہی پر کام دیتے ہیں جبکہ عوامی مفادات کو نذر انداز کیا جاتا ہے ۔ماحچھہامہ کے علاوہ باقی لوگوں نے بھی محکمہ اری گیشن،آر اینڈ بی اور دہی ترقی کے محکمے سے اس حوالے سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔






