”
سرینگر پیلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر فاروق احمد ریشی نے بتایا ترال میں سابق سرکار نے علاقے کے تمام دفاتر کو ایک ہی جگہ قائم کرنے کی غرض سے8سال قبل منی سیکرٹریٹ کو تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے اور اس حوالے سے رقم بھی واگزار کی گئی ہے انہوں نے بتایا سال2018ءمیں اس عمارت پر کام شروع کیا گیا اور ابتدائی مرحلہ مکمل کرنے کے بعد نا معلوم وجوہات کی بناءپر کام کو روک دیا گیا ہے اور آج تک نہ ہی منی سیکٹریٹ کی تعمیری کام مکمل ہوا اور نا ہی اس جانب کوئی توجہ دی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا سرکار دعوے کر رہی ہے کہ ترقی ہوئی انہوں نے الزام لگایا پی ڈی پی سرکار نے ترال میں سڑکوں کو نکالا تھا ان ہی میں سے چندایک سڑکوں پرموجودہ سرکار نے میکڈم بچھایا جبکہ یہاں کے پرانی پروجیکٹس کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ فاروق احمدریشی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ سب ضلع ترال میں بجلی کا زبردست بحران چل رہا ہے جبکہ محکمہ بجلی علاقے میں اپنا ہی شیڈول صارفین کو فراہم کرنے میں ناکام ہے انہوں نے بتایا کہ بجلی فیس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بے حد اضافہ کیا گیا ہے دوسری جانب بجلی کی آنکھ مچولی بڑے پیمانے پر جاری ہے انہوں نے بتایاکہ جب یہاں افسران سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے انہوں نے سوال کیا ہے اگر ان افسران کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے پھر وہ یہاں کس لئے تعینات ہیں ۔انہوں نے ترال کے صارفین کو شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کرنے پر زور دیا ہے ۔







