سرینگر 12 جولائی/ کرائم برانچ کے ایک سینئر افسر نے ہفتہ کو بتایا کہ تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں ایک سب انسپکٹر اور ایک ٹیچر شامل ہیں، مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق تینوں ملزمان کی شناخت سب انسپکٹر مہندر پال، استاد گووند کمار اور آنگن واڑی ورکر شکیلہ بانو کے طور پر کی گئی ہے، یہ سبھی جموں خطے کے مختلف علاقوں سے ہیں۔جموں کرائم برانچ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بینم توش نے بتایا کہ کرائم برانچ (اقتصادی جرائم ونگ) پولیس اسٹیشن میں تین الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔پال، جو اس وقت انڈین ریزرو پولیس کی چوتھی بٹالین میں تعینات ہے، راجوری کی نوشہرہ تحصیل کے اپر نونیال کا رہائشی ہے، اور اس پر 1995میں جعلی تعلیمی قابلیت کے دستاویزات کا استعمال کرکے محکمہ پولیس جموں و کشمیر آرمڈ پولیس میں ملازمت حاصل کرنے کا الزام ہے۔حکام نے بتایا کہ محکمانہ انکوائری رپورٹ اور ابتدائی تصدیقی رپورٹ نے پہلی نظر میں ایک قابل شناخت جرم کا انکشاف کیا ہے۔سچیت گڑھ کے بچن لال کی تحریری شکایت پر، گاو¿ں کھمب، آر ایس پورہ کے کمار کے خلاف 2004میں ایک جعلی مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ (پی آر سی) کا استعمال کرکے جموں و کشمیر کے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں رہبرِ تعلیم (ری ٹی) ٹیچر کے طور پر نوکری حاصل کرنے کے لیے ایک کیس درج کیا گیا تھا۔ایک علیحدہ تحریری شکایت کے مطابق، ضلع رامبن کے کھاری گاو¿ں کے استاد غلام حسن نائک پر الزام ہے کہ اس نے اپنی ناخواندہ بیٹی شکیلہ بانو کے بطور AW انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے اسکول کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کیشکایت کے مطابق، نائک کی پیدائش 6 دسمبر 1966کو ہوئی تھی، اور ان کی بیٹی کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1976 تھی باپ اور بیٹی کی عمر میں صرف نو سال اور 26 دن کا فرق ہے۔شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ بانو ناخواندہ ہے اور نوکری حاصل کرنے کے لیے، اس کے والد نے اسکول کے ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، اور اس طرح جعلسازی کا ارتکاب کیا۔انہوں نے کہا کہ شکایت کے مواد اور ابتدائی تصدیقی رپورٹ کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔






