سری نگر/ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج مشین سے بنے ہوئے قالینوں کو اصل کشمیری ہاتھ سے بنے قالین کے طور پر بیچنے پر سخت نوٹ لیا اورمحکمہ صنعت و حرفت کو ہدایت دی کہ وہ شو روموں اور ریٹیل آو¿ٹ لیٹس کے خلاف سخت کارروائی کریں جو مشین سے بنے قالینوں کو کشمیری ہاتھ سے بنے قالین کے طور پر فروخت کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ایسی جعلسازی عالمی سطح پر کشمیری ہاتھ سے بنے قالینوں کے برانڈ کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور کاریگرکنبوں کو بُری طرح متاثر کرے گی جو اَپنی روزی روٹی کے لئے اس دستکاری پر انحصار کرتے ہیں۔کارپٹ ایکسپورٹ پروموشن کونسل، اِنڈین سلک ایکسپورٹ پروموشن کونسل، میراث کارپٹ ویورز کوآپریٹیو، کشمیر کارپٹ کلسٹر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور کشمیر کارپٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وفدنے وزیراعلیٰ سے سول سیکرٹریٹ سری نگر میں ملاقات کی اور مشین سے بنے قالینوں کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے کچھ بے ایمان تاجروں کی جانب سے مشین سے بنے قالینوں پر جعلی جی آئی لیبل کا اِستعمال کرنے کا معاملہ بھی اُٹھایا۔ اُنہوں نے اس ہنر، کشمیر کی شناخت اور کاریگروں کی روزی روٹی کے تحفظ پر زور دیا۔






