سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج پاکستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوںمارے گئے کشمیری شہریوں کے 158 قریبی رشتہ داروںکو تقرری نامے حوالے کئے۔دہشت گردی کے متاثرین کے اہل خانہ نے اپنے دردناک تجربات بیان کئے اور ان مظالم کو بے نقاب کیا جو پاکستان کی سرپرستی کرنے والے دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں نے ان کے کنبوں پر ڈھائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے عام شہری شہدا¿ کو دلی خراجِ عقیدت پیش کیا اور اُن کنبوں کے حوصلے اورہمت کو سلام پیش کیا جنہوں نے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا کیا۔اُنہوں نے کہا،”جو زخم دہائیوں سے چلے آ رہے تھے، اب بھرنے لگے ہیں۔ آج کا یہ تاریخی دن اُن کنبوں کو کسی حد تک سکون دیا ہے جو برسوں سے خاموشی سے صدمے کا شکار ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”زائد اَز تین دہائیوں سے پاکستان جو ایک دہشت گرد ریاست ہے، اپنے پراکسی دہشت گرد گروہوں کے ذریعے معصوم خون بہا رہا ہے۔ وقت نے نقصان کا درد نہیں مٹا دیا۔ ان کے دِلوںپر لگے نظر نہ آنے والے زخم محسوس کئے جا سکتے ہیں اور خاموش آنکھیں ان ادھورے خوابوں کی گواہ ہیں۔“
اُنہوںنے کہا کہ اِنصاف اور شفا یابی کا طویل اِنتظار ختم ہو گیا ہے ۔ اُنہوں نے پاکستان کے دہشت گردوں اور جموں کشمیر میں سرگرم دہشت گردانہ نظام کو بے نقاب کرنے والے ان کنبوںکے حوصلے کی تعریف کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے عبدالمجید میر کے کنبے کی المناک داستان کا اشتراک بھی کیا جنہیں 29 جون 2004 کو دہشت گردوں نے شیخ پورہ بارہمولہ سے اِغوا کے بعد بے دردی سے قتل کردیا تھا۔
اُنہوں نے کہا،”عبدالمجید کاکنبہ اپنا واحد کفیل کھو بیٹھا اور ایس آر اِی سکیم کے تحت صرف ایک لاکھ روپے کی ایکس گریشیا اِمداد ملی۔ آج ان کے بیٹے مدثر مجید کو سرکاری ملازمت دے کر حکومت نے اپنی دیرینہ ذمہ داری پوری کی ہے۔“









