سرینگر / نئی دہلی: چنار بک فیسٹیول،سری نگر2025 کے ساتویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اورشعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے دو مذاکرے ’نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں لسانی تنوع:اردو اور کشمیری میں امکانات‘ اور’اردو ادب اور ثقافتی مکالمے میں کشمیری خواتین‘کے عنوان سے منعقد ہوئے۔ پہلے مذاکرے میں پروفیسر شریف الدین پیر زادہ(سابق صدر شعبہ ریاضیات و ڈین اکیڈمک افیئرز،کشمیر یونیورسٹی)،پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد صدیقی(چیف کوآرڈینیٹر،این ای پی،کشمیر یونیورسٹی)اور ماجد زماں(کنٹرولر آف اگزامنیشن،کشمیر یونیورسٹی) نے گفتگو کرتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی کے تناظر میں علاقائی اور مادری زبانوں کی تدریس،ان کے فروغ اور مستقبل کے امکانات و مسائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروفیسر شریف الدین پیر زادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک ٹرانسفارمیشن یعنی ہمہ گیر تبدیلی کا پیش خیمہ ہے اگر اس کو طلبہ نے صحیح طریقے سے فالو کرلیا تو یقینا کامیابی ان کے قدم چومے گی۔انھوں نے مزید کہاکہ اس پالیسی میں مادری اور علاقائی زبانوں کو ابتدائی تعلیم کاذریعہ بنانے کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے جو اردو اور کشمیری زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو اور کشمیری زبانوں کے لیے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔پروفیسر مشتاق احمد صدیقی نے کہاکہ نئی تعلیمی پالیسی کا خاطر خواہ نتیجہ اسی وقت نکل سکتاہے جب اسے اسکولس،کالجز اوریونیورسٹیز میں مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔انھوں نے مزید کہاکہ اس پالیسی میں جس طرح کی تجاویز پیش کی گئی ہیں اگر انھیں عملی طور پر اپنایا گیاتو ہمارے تعلیمی معیار میں یقینا بہتری آئے گی۔ماجد زماں نے کہاکہ نیو ایجوکیشن پالیسی میں کثیر لسانی تعلیم اور مادری زبان میں ابتدائی تعلیم پر زور دینا ایک اہم قدم ہے، کیوں کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے نہ صرف یہ کہ پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کی رفتار بڑھتی ہے بلکہ اس سے ثقافتی ورثہ بھی محفوظ رہتا ہے۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر مشتاق حیدر(استاد شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
آج کا دوسرا مذاکرہ ’اردو ادب اور ثقافتی مکالمے میں کشمیری خواتین‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ اس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ایاز رسول نازکی (سابق رجسٹرار،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی،راجوری) نے کہاکہ کشمیر کی ادبی روایت میں روحانیت کی نمائندہ لل دید اور رومانیت کی نمائندہ حبہ خاتون کی مثالیں دونوں سمتوں کی تخلیقی جہات کو واضح کرتی ہیں، بعد میں رخسانہ جبیں اور دیگر شاعرات نے اس روایت کو جاری رکھا تاہم درمیان میں ایک طویل خلا نظر آتاہے۔ محترمہ رخسانہ جبیں(سابق ڈائریکٹر آل انڈیا ریڈیو،سرینگر) نے کہاکہ عابدہ احمد اور شملہ مفتی نے نسائی ادب کو بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔انھوں نے مزید کہاکہ کشمیری خواتین کے ادب میں موضوعات کا ایک متنوع سلسلہ ملتاہے تاہم سماجی جبر اور معاشرتی رویے خواتین کو پوری طرح ابھرنے سے روکتے ہیں۔ ڈاکٹر نگہت سعید قریشی (ممتاز شاعرہ وفکشن نگار) نے کہاکہ شاعری کا تعلق فوری اور جذباتی اظہار سے ہے اس لیے کشمیر میں زیادہ تر خواتین شاعری کی طرف مائل رہی ہیں۔ انھوں نے نسائیت اور تانیثیت کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے کہاکہ نسائیت ایک سماجی اور نوثقافتی تصور ہے جبکہ تانیثیت ایک فکری و سماجی تحریک ہے۔ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر کوثر رسول(اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) نے کی۔
قومی اردو کونسل اور شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی کے اشتراک سے جاری سہ روزہ تربیتی ورکشاپ بعنوان ‘نئی نسل میں ادبی و تخلیقی مہارتوں کی نشوونما’ کے آج تین سیشنز بہت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن کا عنوان ’کہانی میں مکالمہ اور توضیحی عناصر‘ تھا،اس کی اسپیکر ڈاکٹر کوثر رسول(اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی) تھیں، انھوں نے منظر نگاری اور مکالمہ نگاری کے حوالے سے بڑی اہم گفتگو کی۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر اویس احمد بھٹ (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو،کشمیر یونیورسٹی) نے۔دوسرے سیشن کاعنوان ’کہانی کی ساخت اورر اختتام: اپنا بیانیہ کیسے تشکیل دیں‘ تھا۔اس کے اسپیکر جناب شکیل الرحمن(مشہورشاعر،ناقد) تھے۔انھوں نے کہانی کی ساخت اور اختتام کے حوالے سے بڑی مفید گفتگو کی۔اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر اقبال لون (اسسٹنٹ ایڈیٹر،شیرازہ،کلچر اکیڈمی، جموں وکشمیر) نے کی۔ آج کا تیسرا اور آخری سیشن ’تخلیقی تحریر کی رہنمائی: آپ کہانی کیسے لکھیں‘تھا۔اس سیشن کے مینٹور مشہور فکشن نگارجناب دیپک بدکی،مشہور شاعر وفکشن نگار جناب مشتاق مہدی اورمعروف ادیب وڈرامانویس جناب غلام نبی شاہد تھے۔ان حضرات نے کہانی کیسے وجود میں آتی ہے اورتخلیقی تحریر کی کیا کیا خصوصیات ہیں ان پر گفتگو کی






