منگل, اکتوبر ۲۰, ۲۰۲۶
  • About
  • Contact
  • ENGLISH
  • آج کا اخبار
Srinagar Mail
  • اہم خبریں
  • ٹاپ اسٹوری
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • صحت وسائنس
  • ادایہ
  • مضامین
  • کاروبار
No Result
View All Result
ENGLISH NEWS
ePAPER
Srinagar Mail
  • اہم خبریں
  • ٹاپ اسٹوری
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • صحت وسائنس
  • ادایہ
  • مضامین
  • کاروبار
No Result
View All Result
Srinagar Mail
 EN 
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

والد محترم کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

by Srinagar Mail
20/10/2026
A A
والد محترم کی یاد میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappEmailTelegram

 

 

 

 

 

 

 

تحریر:سید اعجاز

والدین کی جدائی کا درد الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیںہے میر ے والد محترم پیر محمد حسین جس کو مقامی لوگ اور بچے ابا کہتے تھے اوران کے شاگرد انہیں ”پیر سر “کے نام سے پکارتے تھے ۔آج ابا کوہم سے بچھڑے ایک سال مکمل ہو گیا۔ وقت گزرتا رہا، دن مہینوں میں اور مہینے ایک سال میں بدل گیا، مگر آپ کی جدائی کا درد آج بھی دل میں ویسا ہی ہے جہاں اس شام تھا جب آپ ہم سے ہمیشہ کے لئے دور چلے گئے۔والد صاحب کے جانے کے بعدکوئی بھی خوشی ہمیں خوشی محسوس نہیں ہوتی،یوں تو ہم زمانے کے ساتھ چلنے کے لئے مجبور ہیں لیکن میرا ذاتی تجربہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد گھر میں لاکھ کوشوں کے باجود وہ ماحول ہم قائم نہیں کر پاتے جو آپ کی موجودگی میں ہوتا تھا۔
ابا جی! آپ کے بغیر زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے کوئی پ±ر نہیں کر سکتا۔ آپ کی محبت، آپ کی شفقت، آپ کی نصیحتیں اور آپ کا سایہ آج بھی ہر قدم پر یاد آتا ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ آپ کی آواز پھر سے سنائی دے، آپ کے ساتھ چند لمحے گزارنے کا موقع ملے، اور ایک بار پھر آپ کے سامنے بیٹھ کر دل کی باتیں کر سکوں، مگر اب یہ سب صرف یادوں میں ہی ممکن ہے۔مجھے جب بھی کوئی خوشی یا غم زندگی میں ملتا ہے تو میں اپنے ابا کو یاد کرتا ہوں میری آنکھوں سے آنسوں گر نے کے بعد ہی قرار آتا ہے۔
موت ایک حقیقت ہے یہی قانون قدر ت ہے کہ اس دنیا میں آیا ہے اُس کو واپس جانا ہے لیکن ہمارے والد صاحب نے جس طرح مالی مشکلات ،غربت اور باقی دشواریوںکے باوجود ہماری پروش کی ،ہمیں بہتر تعلیم کے نور سے آراستہ کیا اس کی مثال ہمیں کہیں نہیں ملتی ہے اکثر اوقات کے دوران اپنا آرام چھوڈ کر سخت سردیوں اور مشکل حلات میں ہمارے لئے محنت کی۔راقم گھر کا بڑا بچہ تھا چھوٹی عمرمیں ہی پریشانیوں سے تنگ آکر ترال میں اخبار فروشی کا کام شروع کیا ۔وہ(ابا) مجھے روز کہتے تھے مجھے آپ کا یہ کام برداشت نہیں ہوتا ہے مجھے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اخبار کی بنڈل اٹھا نہیں پاتا ہے ۔ ترال میں اُن دنوں حالات بہت خراب رہتے تھے فون کا زمانہ بھی نہیں تھا جب کوئی واقعہ رونماہوتا تھا تو میرے گھر والے میری پریشانی میں گھر کے باہر سڑک پر شام تک میرا انتظارشام تک کرتے رہتے تھے میرے والد صاحب پورے کنبے میں سب سے زیادہ بے چین رہتے تھے۔انہیں خواب تھا کہ میں تعلیم حاصل کروں اور ڈر اس بات تھا کہ شائد اب یہ تعلیم چھوڈ دے گا ۔وہ مجھے کہتے تھے آپ تعلیم حاصل کرو سب کچھ ملے گا۔ یہ دن بھی نہیں رہیں گے ۔اور کافی دعائیں مجھے دیتا تھا انہیں افسوس تھا میں نے بچپن دیکھا نہیںاور غربت کی وجہ سے میں نے کم عمر میں اپنی آزادی ختم کی ہے ۔میںنے ایک بار ابا سے وعدہ کیا “کہ آپ کو میری وجہ سے کبھی بے عزتی نہیں ہوگی اور آپ کو وہ عزت ملے گا جس کے بارے میں آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگامیں پوری کوشش کروں گاور میں تعلیم بھی حاصل کروں گا۔ یہی وہ وقت تھا جب میں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا ہے۔
حالات میں قدرے بہتری آئی بہر حال اخبار فروشی کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کی، پارٹ ٹائم کام بھی کرتا رہا اور ایک سال سے زیادہ وقت کے بعداخبار فروشی کو چھوڑ کر رپوٹنگ شروع کی ،تعلیم حاصل کی 2ڈگریاں اور بی ۔ایڈ کیا ۔جموںو کشمیر کے معروف میڈیا اداروں میںاچھے سے کام کرنا شروع کیا آہستہ آہستہ گھر کے حالات بدلنے لگے ۔
بحثت ایک شفیق والد :۔۔۔؛ہم نے اکثر دیکھا کہ جب ہم اپنے بچوں کو کسی کام کے لئے میدان میں چھوڈ دیتے ہیں تو اکثر والدین فوراً بچوں سے کمائی کا حساب لگاتے ہیں کیا کمایا وغیرہ وغیرہ ۔لیکن میرا والد اس انداز میں سب سے الگ تھے جب میں نے ابتدائی سالوں میں میڈیا میں صرف اتنا ہی کماتا تھا جو مجھے کرایہ وغیرہ پر خرچ ہوتا تھا مجھے اپنے والد صاحب کبھی بھی نہیں پوچھا آپ نے مہینے میں کیا کمایاجس کی وجہ میں اپنا کام جاری رکھ سکااور اسی چیزنے مجھے وہاں پہنچایا جہاں میں آج کھڑا ہوا ۔الحمد اللہ میں مطمئن اور خوش بھی ہوں ۔ میں نے بھی اپنے والدصاحب کا بھروسہ کبھی نہیں توڑا۔انہوں نے ہمیں کبھی بھی نیند میںزور سے چلا کر نہیں اٹھایانہایت ہی شفقت سے اٹھاتے تھے چاہ ے وہ ماة رمضان تھا یا اور کوئی مہینہ۔ جب ہم کبھی مسجد نہیں جاتے تھے وہ ناراض ہو کر ڈانٹتے تھے ۔ہمیشہ گھر دیر آنے کی وجہ پوچھتے تھے کبھی بھی کوئی چیز گھر لاتے تھے توپوری تفصیل حاصل کرتے تھے کہاں سے لایا کتنے میں لایا پیسے کہاں سے لائے وغیرہ۔سب سے اہم جمعہ کے دن جہاں ہم نے نماز ادا کی ہوتی تھی وہاں کے مولوی صاحب کے واعظ کا امتحان ہمیں گھر میں دینا پڑتا تھا۔ اپنے چاروں بچوں کے ساتھ یکسان سلو ک کرتے تھے۔
بطور گھر کا سربراہ:۔۔۔۔۔۔میں نے خود اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سارے والدین گھر سے باہر رہ کر ہوٹلوں ،دعوتوں یا دیگر تقریبات میں کھاتے پیتے ہیں بعض لوگوں کے بچے گھروں میں معمولی کھانے کے لئے ترستے رہتے ہیں ۔لیکن ہمارے والد صاحب کی ایک مثال تھی کہ جب اس کے جیب میں کبھی کھجور بھی ہوتا تھا وہ ہمیشہ اس کو برابر6حصوں میں تقسیم کرتا تھا۔جو وہ خود کھاتے تھے دوسرے دن اپنے افراد خانہ کے لئے بھی لاتے تھے ۔
بطورایک شوہر:۔۔۔۔۔ابا جان نے جہاں گھربہترین کا سربراہ کے طور ثابت کیاوہی دوسری جانب وہ ایک بہترین شوہر بھی ثابت ہوئے۔ اپنی اہلیہ یعنی میری والدہ کو ضروت کے مطابق پہلے پہلے بہت زیادہ لیکن بچے بڑے ہونے کے بعد کم کم مدد میں پیش پیش رہتے تھے حتی ممی کی غیر موجودگی میں وہ ہماری ماں کا کردار ہر اعتبار سے نبھاتے تھے،ان کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر روز کا حساب ایک ڈائری پر لکھتے ہیں اور اپنی اہلیہ کو بتاتے تھے۔ انہوں نے کس سے کیا لیا کس کو کیا دیا۔
بطور کامیاب استاد ۔۔۔۔۔۔ابا ایک پرائیوٹ سکول کے ٹیچر تھے انہوں نے سکھ اور مسلمانوں بچوں کی بڑی تعداد کو پڑھایا لیکن مجھے پورا یقین ہے وہ اپنے شاگردوں کو اپنے بچوں سے زیادہ محبت کرتے تھے ۔انہیں بچے پیر سر کے نام سے پکارتے تھے۔یہی وجہ ہی ہے ان کے وفات کے فوراً بعد رات ہونے کے باجود ہر تمام لوگ جنازے میں موجود رہے۔
آج پورا یک سال ہوا ایک سال کے دوران میں نے ہزار بار سوچا میں اپنے ابا کے بارے میں کچھ لکھوں لیکن کبھی ایک لفظ لکھنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ مجھے میرے والد محترم نے ہی اس وقت صحافت کے پُر خطر میدان میں جانے کی اجازت دی جب ہر طرف سے صرف اندھیراہی اندھیرا چھایا ہواتھا دن کو دن اور رات کو رات کہنے کے لئے ایک بڑا دل کیا۔میں آج تک ہزاروں کی تعداد میںمختلف موضوعات پر خبریں ،رپوٹ ۔،مضامین تحریر کر چکا ہوں ۔اس لئے اپنے والد کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھنا مناسب سمجھا ہے جن کی بدولت میں آج کچھ لکھ پاتا ہوں ۔میرا ابا مجھ سے بہت پیار کرتے تھے شائد جتنا میں اسے محبت کرتا تھا اسے کئی گنا زیادہ ان کو مجھ سے محبت تھی جس کو تب بار بار محسوس کرتا تھا اور آج اسکی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے ۔
20اکتوبر2025کا دن تھا ہمارے کچن میں زبردست خوشگوار ماحول تھا کوئی چائے پیتا تھا کوئی قُرآن شریف کی تلاوت کرتا تھا میں نے اپنی والدہ سے کہاکہ باقی دن کے نسبت ابا کا چہرہ آج بہت ہی خوش لگ رہا ہے لگتا ہے آج ان کی طبعیت بلکل ٹھیک ہے۔جبکہ وہ نیند سے بھی بہت جلدجاگے تھے۔ وہ کچھ مدت سے دل کے درد میں مبتلا تھے سب حسب معمول اپنے اپنے کام پر چلے گئی۔
شام کا وقت تھاجب میں واپس گھر پہنچا میں نے ابا کو باقی دنوں سے زیادہ ہشاش بشاش دیکھا میںوہ گھر سے تھوڑی دور تھا انہیں گھر آنے کے لئے کہا انہوں نے کہا پہلے نماز دا کریں گے ۔انہوں نے وضو بنایا تھامیں ددفتری کام کمرے میں کر رہا تھا انہوں نے باہر سے میری والدہ کو بلایا اور خود مسجد جانے کی تیاری کر رہا تھا یہاںعجیب قسم کا اندھیرا مجھے محسوس ہوا ۔ میں نے کھڑکی سے پردہ اٹھایا اور باہر دیکھا مغرب کی آزان بکل تیار تھی جو ہی میں نے باہر دیکھا ابا صحن میں مسجد جانے سے قبل ہی گرپڑا میں ننگے پاﺅں دوڑا لیکن وہ خاموش ہوئے تھے میں نے اپنے بھائیوں کو بلایا اس کے ساتھ ہمارے باقی گھر والے بھی آئے اور فوراً انہیں نذدیکی ہسپتال پہنچایا لیکن ڈاکٹروں نے کہا اب آپ کو صبر کرنا ہوگا۔ ۔
اباآپ دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر میرے دل سے کبھی جدا نہیں ہوں گے۔آپ کی یادیں میری زندگی کا وہ سرمایہ ہیں جو وقت کے ساتھ کبھی ختم نہیں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے آمیں۔”آمین“۔۔

 

 

ShareTweetSendSendShare
Previous Post

صرف ڈگریاں کافی نہیں، ہنر پر مبنی تعلیم بچوں کو فراہم کرنا موجودہ وقت کی اہم ضروت ہے: وزیر تعلیم

Related Posts

اسمبلی نے 2019 سے قبل تعینات اساتذہ کو ٹی اِی ٹی سے استثنیٰ دینے کی قرار داد منظور کی

صرف ڈگریاں کافی نہیں، ہنر پر مبنی تعلیم بچوں کو فراہم کرنا موجودہ وقت کی اہم ضروت ہے: وزیر تعلیم

سکینہ ایتو نے تعلیم اور کھیل کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا

سکینہ ایتو نے تعلیم اور کھیل کے ذریعے لڑکیوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا

سکینہ ایتو نے نانیل اننت ناگ میں سماجی بہبود کی سہولیات کا افتتاح کیا

سکینہ ایتو نے نانیل اننت ناگ میں سماجی بہبود کی سہولیات کا افتتاح کیا

چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کا سابق آئی اے ایس آفیسر ایس ایس رضوی کے اِنتقال پر اِظہار ِ تعزیت

اے اے وائی کنبوں کیلئے سالانہ چھ مفت ایل پی جی کوکنگ گیس سلنڈر فراہم کئے جائیں گے ۔ ستیش شرما

اے اے وائی کنبوں کیلئے سالانہ چھ مفت ایل پی جی کوکنگ گیس سلنڈر فراہم کئے جائیں گے ۔ ستیش شرما

اسمبلی نے عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین کے بچوں کیلئے سرکاری سکولوں میں تعلیم لازمی کرنے کا پرائیویٹ ممبر ز بل مسترد کردیا

اسمبلی نے عوامی نمائندوں اور سرکاری ملازمین کے بچوں کیلئے سرکاری سکولوں میں تعلیم لازمی کرنے کا پرائیویٹ ممبر ز بل مسترد کردیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Contact
  • ENGLISH
  • آج کا اخبار
email us:

© Designed by GITS -Srinagar Mail

No Result
View All Result
  • اہم خبریں
  • ٹاپ اسٹوری
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • صحت وسائنس
  • ادایہ
  • مضامین
  • کاروبار

© Designed by GITS -Srinagar Mail