سرینگر//شعبہ اردوکشمیر یونی ورسٹی کی جانب سے ”13دسمبرمابعد جدید تنقید:اظہار و امکان” کے عنوان پر آن لائن بین الاقوامی توسیعی خطبے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ توسیعی خطبہ اردو کے معروف نقاد، شاعر اور محقق پروفیسر مشتاق صدف صاحب نے تاجک نیشنل یونی ورسٹی، تاجکستان سے مرحمت فرمایا۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر عارفہ بشریٰ صاحبہ نے مہمان مقرر کا تعارف پیش کیا۔ مہمان مقرر نے مابعد جدید تنقید کی نظریاتی اساس اور اس کے بنیادی فکری رویوں پر روشنی ڈالی۔ ا±س کے بعد مابعد جدیدیت کو "صورت حال” قرار دے کراس کی نظریاتی وسعت پر سیر حاصل گفتگو کی۔ علاوہ ازیں مابعد جدید تنقید کے مختلف طریق ہائے نقد اور اہم تنقیدی رجحانات کے بعض اہم نکات کو بھی واشگاف کیا۔ جہاں ا±ںھوں نے لامرکزیت، تکثیریت اور معروضیت کی بنیاد پرمابعد جدید تنقید کی ماہیت بیان کی وہیں مابعد جدید تنقید پر روایتی تنقید کے کئی اعتراضات کا بھی استدلالی اور منطقی انداز سے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ اس توسیعی خطبے میں شعبہ اردو کے اساتذہ میں ڈاکٹر کوثر رسول صاحبہ، ڈاکٹر مشتاق حیدر صاحب کے ساتھ ساتھ نظامت فاصلاتی تعلیم سے ڈاکٹر الطاف انجم صاحب کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر محمد ذاکر صاحب، ڈاکٹر ریاض احمد کمار صاحب، ڈاکٹر ا±ویس احمد صاحب، ڈاکٹر محمد یونس ٹھوکر صاحب، ڈاکٹر روحی سلطان صاحبہ اور ڈاکٹر راکیش کمار صاحب بھی شریک رہے۔ ڈاکٹر مشتاق حیدر صاحب نے توسیعی خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دئیے اور آخر پر ڈاکٹر محمد ذاکر صاحب نے شکرانے کی تحریک ادا کی۔






